مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابُ الصَّدَقَةِ عَلَى الْأَقَارِبِ وَصَدَقَةِ الْمَرْأَةِ عَلَى زَوْجِهَا . باب: قریبی رشتہ داروں کو صدقہ کرنا ، عورت کا اپنے شوہر کو صدقہ کرنا
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ لَا يُعَذِّبُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ رَحِمَ الْيَتِيمَ ، وَلَانَ لَهُ فِي الْكَلَامِ ، وَرَحِمَ يُتْمَهُ وَضَعْفَهُ ، وَلَمْ يَتَطَاوَلْ عَلَى جَارِهِ بِفَضْلِ مَا آتَاهُ اللَّهُ " وَقَالَ : " يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ ، وَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ صَدَقَةً مِنْ رَجُلٍ ، وَلَهُ قَرَابَةٌ مُحْتَاجُونَ إِلَى صِلَتِهِ وَيَصْرِفُهَا إِلَى غَيْرِهِمْ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ : لَيْسَ بِالْمَتْرُوكِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس شخص کو عذاب نہیں دے گا ، جو یتیم پر رحم کرتا ہو ، اور اس کے ساتھ نرم بات کرتا ہو وہ اس کے یتیم ہونے اور کمزور ہونے پر رحم کرتا ہو ، اور اللہ تعالیٰ نے اسے جو کچھ عطا کیا ہے وہ اضافی ہونے کی وجہ سے اپنے پڑوسی کے سامنے خود کو نمایاں نہ کرتا ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے محمد کی اُمت ! اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے اللہ تعالی کسی ایسے شخص کا صدقہ قبول نہیں کرتا جس کے رشتے دار اس کی صلہ رحمی کے محتاج ہوں اور وہ صدقہ دوسروں کو کر دے اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف نظر نہیں کرے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عامر اسلمی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ابوحاتم کہتے ہیں : یہ متروک نہیں ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔