مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابُ مُنَاوَلَةِ الْمِسْكِينِ . باب: مسکین کو کوئی چیز پکڑانا
عَنْ عُثْمَانَ قَالَ : كَانَ حَارِثَةُ قَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ فَاتَّخَذَ خَيْطًا فِي مُصَلَّاهُ إِلَى بَابِ حُجْرَتِهِ وَوَضَعَ عِنْدَهُ مِكْتَلًا فِيهِ تَمْرٌ ، وَغَيْرَهُ ، فَكَانَ إِذَا جَاءَ الْمِسْكِينُ فَسَلَّمَ أَخَذَ مِنْ ذَلِكَ الْمِكْتَلِ ، ثُمَّ أَخَذَ بِطَرَفِ الْخَيْطِ حَتَّى يُنَاوِلَهُ ، وَكَانَ أَهْلُهُ يَقُولُونَ : نَحْنُ نَكْفِيكَ فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مُنَاوَلَةُ الْمِسْكِينِ تَقِي مِيتَةَ السُّوءِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤عثمان نامی راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا حارثہ رضی اللہ عنہ کا یہ معمول تھا کہ ان کی بینائی رخصت ہو گئی تھی انہوں نے اپنے حجرے کے دروازے کے پاس اپنی جائے نماز کے پاس ایک ڈوری لگائی ہوئی تھی اور اس کے پاس ایک پیمانہ رکھ لیا تھا جس میں کھجوریں اور دیگر چیزیں موجود ہوتی تھیں جب کوئی مسکین آتا تھا اور سلام کرتا تھا ، تو وہ اس برتن میں سے کوئی چیز لیتے تھے ، اور ڈوری کا کنارہ کنارہ پکڑتے تھے ، اور وہ چیز مسکین کو پکڑا دیتے تھے ، ان کے اہل خانہ یہ کہتے تھے : آپ کا یہ کام ہم کر دیتے ہیں ، تو وہ یہ فرماتے تھے : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” مسکین کو کوئی چیز پکڑانا بری موت سے بچاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔