مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابُ أَجْرِ الصَّدَقَةِ . باب: صدقہ کرنے کا اجر
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : لَمَّا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : ( مَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنْبُلَةٍ مِائَةُ حَبَّةٍ ) قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَبِّ زِدْ أُمَّتِي " . فَنَزَلَتْ : ( مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً ) ، قَالَ : " رَبِّ زِدْ أُمَّتِي " . فَنَزَلَتْ : ( إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ ) . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ الْمُسَيَّبِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ” وہ لوگ جو اللہ کی راہ میں اپنے اموال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال اس دانے کی طرح ہے ، جو سات بالیاں اگاتی ہے ہر ایک بالی میں ایک سودانے ہوتے ہیں “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے میرے پروردگار ! میری امت کو مزید عطا فرما “ ۔ تو یہ آیت نازل ہوئی : ” جو شخص اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دے گا ، تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے لئے کئی گنا کر دے گا“ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی : اے میرے پروردگار ! میری امت کو مزید عطا فرما تو یہ آیت نازل ہوئی : ” بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر کسی حساب کے بغیر دیا جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن مسیب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔