حدیث نمبر: 4622
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ارْمُوا وَانْتَضِلُوا ، وَإِنْ تَنْتَضِلُوا أَحَبُّ إِلَيَّ ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ الْجَنَّةَ صَانِعَهُ الْمُحْتَسِبَ فِيهِ ، وَالْمُسِدَّ بِهِ ، وَالرَّامِيَ بِهِ ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيُدْخِلُ بِلُقْمَةِ الْخُبْزِ ، وَقَبْضَةِ التَّمْرِ ، وَمِثْلِهِ مِمَّا يَنْتَفِعُ بِهِ الْمِسْكِينُ ثَلَاثَةً الْجَنَّةَ : رَبَّ الْبَيْتِ ، وَالْآمِرَ بِهِ ، وَالزَّوْجَةَ تُصْلِحُهُ ، وَالْخَادِمَ الَّذِي يُنَاوِلُ الْمِسْكِينَ " . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَنْسَ أَحَدًا مِنَّا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ تیر اندازی کرو اور تیر اندازی کی مشق کرو ، کرو اور اگر تم تیر اندازی کی مشق کرو ، تو یہ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے بے شک اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے اسے بنانے والے کو جنت میں داخل کرتا ہے جو اس کے بارے ، میں ثواب کی امید رکھتا ہو ، اور اسے پکڑانے والے کو اور اسے پھینکنے والے کو جنت میں داخل کرتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ روٹی کے ایک لقمے کی وجہ سے اور مٹھی بھر کھجور کی وجہ سے یا اس کی مانند کسی اور چیز کی وجہ سے جس کے ذریعے کسی مسکین کو نفع حاصل ہو تین افراد کو جنت میں داخل کرتا ہے گھر کے مالک کو جو اس کا حکم دینے والا ہو ، اور بیوی کو جو اس کو تیار کرتی ہے ، اور اس خادم کو جو وہ چیز مسکین کو پکڑاتا ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جو ہم میں سے کسی کو بھی نہیں بھولا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4622
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف