مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابُ أَجْرِ الصَّدَقَةِ . باب: صدقہ کرنے کا اجر
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا أَحْسَنَ مِنْ مُحْسِنٍ مِنْ مُسْلِمٍ وَلَا كَافِرٍ إِلَّا أُثِيبَ " . قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذِهِ إِثَابَةُ الْمُسْلِمِ قَدْ عَرَفْنَاهَا ، فَمَا إِثَابَةُ الْكَافِرِ ؟ قَالَ : " إِذَا تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ أَوْ وَصَلَ رَحِمًا أَوْ عَمِلَ حَسَنَةً أَثَابَهُ اللَّهُ وَإِثَابَتُهُ الْمَالُ وَالْوَلَدُ فِي الدُّنْيَا ، وَعَذَابٌ دُونَ الْعَذَابِ " - يَعْنِي فِي الْآخِرَةِ - وَقَرَأَ : ( أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ ) . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عُتْبَةُ بْنُ يَقْظَانَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو بھی مسلمان یا کافر شخص جو بھی اچھائی کرتا ہے اسے اس کا ثواب دیا جاتا ہے ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مسلمان کو ثواب ملنے کا تو ہمیں پتہ ہے کافر کو کیسے ثواب ملتا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب وہ صدقہ کرتا ہے ، یا صلہ رحمی کرتا ہے ، یا اچھا عمل کرتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اسے ثواب عطا کرتا ہے ، اور اس کو ملنے والا ثواب دنیا میں مال یا اولاد کی شکل میں ہوتا ہے ، اور دوسرے عذاب سے کم عذاب کی شکل میں ہو گا راوی کہتے ہیں : یعنی آخرت میں ایسا ہو گا پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ” آل فرعون کو شدید ترین عذاب میں داخل کر دو “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عتبہ بن يقظان ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔ ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔