مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ الصَّدَقَةِ . باب: صدقہ کرنے کی فضیلت
وَعَنْ رَافِعِ بْنِ مَكِيثٍ - وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " حُسْنُ الْمَلَكَةِ نَمَاءٌ ، وَسُوءُ الْخُلُقِ شُؤْمٌ ، وَالْبِرُّ زِيَادَةٌ فِي الْعُمُرِ ، وَالصَّدَقَةُ تَقِي مِيتَةَ السُّوءِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ : " حُسْنُ الْمَلَكَةِ نَمَاءٌ ، وَسُوءُ الْخُلُقِ شُؤْمٌ " . فَقَطْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤سیدنا رافع بن مکیث رضی اللہ عنہ جو ان افراد میں سے ایک ہیں جنہیں حدیبیہ میں شرکت کا شرف حاصل ہے وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اپنے زیر ملکیت لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا بڑھوتری کا باعث ہے برے اخلاق نحوست کا باعث ہیں اور نیکی عمر میں اضافہ کرتی ہے ، اور صدقہ بری موت سے بچاتا ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس میں سے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” زیر ملکیت کے ساتھ اچھا سلوک بڑھوتری کا باعث ہے ، اور برے اخلاق نحوست کا باعث ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔