مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابُ مَا نَقَصَ مَالٌ مِنْ صَدَقَةٍ . باب: صدقہ سے مال میں کمی نہیں ہوتی
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " ثَلَاثٌ - وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنْ كُنْتُ لَحَالِفًا عَلَيْهِنَّ - : لَا يَنْقُصَنَّ مَالٌ مِنْ صَدَقَةٍ ; فَتَصَدَّقُوا ، وَلَا يَعْفُو عَبْدٌ عَنْ مَظْلَمَةٍ [ يَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ ]إِلَّا زَادَهُ اللَّهُ بِهَا عِزًّا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَلَا يَفْتَحُ عَبْدٌ بَابَ مَسْأَلَةٍ إِلَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ بَابَ فَقْرٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . وَلَهُ عِنْدَ الْبَزَّارِ طَرِيقٌ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَقَالَ : إِنَّ الرِّوَايَةَ هَذِهِ أَصَحُّ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تین چیزیں ہیں اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر میں چاہوں تو ان پر حلف بھی اٹھا سکتا ہوں یہ کہ صدقہ سے مال میں کمی نہیں ہوتی تو تم لوگ صدقہ کیا کرو اور جب بھی کوئی بندہ کوئی زیادتی معاف کرتا ہے ، اور اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہو ، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی وجہ سے اس کی عزت میں اضافہ کرے گا ، اور جو بندہ مانگنے کا دروازہ کھولتا ہے اللہ تعالٰی اس پر غربت کا دروازہ کھول دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام یان نہیں کیا گیا ہے ۔ امام بزار نے اسے ایک اور سند کے ساتھ ابوسلمہ کے حوالے سے نقل کیا ہے ، اور یہ بات بیان کی ہے۔ یہ روایت مستند ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔