مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ جَاءَهُ شَيْءٌ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلَا إِشْرَافٍ . باب: جس شخص کے پاس مانگے بغیر یا لالچ کے بغیر کوئی چیز آ جائے
وَعَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ حَنْطَبٍ : أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرٍ بَعَثَ إِلَى عَائِشَةَ بِنَفَقَةٍ وَكُسْوَةٍ ، فَقَالَتْ لِلرَّسُولِ : أَيْ بُنَيَّ ، لَا أَقْبَلُ مِنْ أَحَدٍ شَيْئًا . فَلَمَّا خَرَجَ الرَّسُولُ قَالَتْ : رُدُّوهُ عَلَيَّ . فَرَدُّوهُ . قَالَتْ : إِنِّي ذَكَرْتُ شَيْئًا قَالَهُ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَائِشَةُ ، مَنْ أَعْطَاكِ عَطَاءً بِغَيْرِ مَسْأَلَةٍ فَاقْبَلِيهِ ; فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ عَرَضَهُ اللَّهُ لَكِ " . ¤ [رَوَاهُ أَحْمَدُ ] وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ الْمُطَّلِبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ مُدَلِّسٌ ، وَاخْتُلِفَ فِي سَمَاعِهِ مِنْ عَائِشَةَ . ¤مطلب بن حنطب بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس کچھ خرچ اور لباس بھیجا ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے قاصد سے فرمایا : اے میرے بیٹے ! میں کسی سے کچھ قبول نہیں کرتی ہوں ، جب قاصد نکلنے لگا ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اسے میرے پاس واپس لاؤ ! لوگ اسے واپس لے آئے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : مجھے ایک بات یاد آ گئی ( جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا : ) ” اے عائشہ ! جب تمہیں کوئی چیز مانگے بغیر دے ، تو تم اسے قبول کر لو ، کیونکہ یہ وہ رزق ہو گا ، جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں دیا ہو گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ مطلب بن عبداللہ نامی راوی تدلیس کرنے والا ہے ، اس کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔