مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ جَاءَهُ شَيْءٌ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلَا إِشْرَافٍ . باب: جس شخص کے پاس مانگے بغیر یا لالچ کے بغیر کوئی چیز آ جائے
حدیث نمبر: 4553
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذِهِ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ ، فَمَنْ آتَيْنَاهُ مِنْهَا شَيْئًا بِطِيبِ نَفْسٍ أَوْ طِيبِ طُعْمَةٍ وَلَا إِشْرَافٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ ، وَمَنْ آتَيْنَاهُ مِنْهَا شَيْئًا بِغَيْرِ طِيبِ نَفْسٍ مِنَّا وَغَيْرِ طِيبِ طُعْمَةٍ وَإِشْرَافٍ مِنْهُ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ دنیا ، سرسبز اور میٹھی ہے ، اور جس شخص کو ہم اپنی خوشی کے ساتھ کوئی چیز دیتے ہیں ، یا کوئی پاکیزہ چیز دیتے ہیں ، جو اس کے لالچ کے بغیر ہو ، تو اُس شخص کے لئے اس چیز میں برکت رکھی جائے گی ، اور جس شخص کو ہم کوئی چیز اپنی خوشی کے بغیر دیتے ہیں ، اور اپنی خواہش کے بغیر دیتے ہیں اور وہ شخص اس کا لالچ بھی رکھتا ہو تو اس کے لئے اس چیز میں برکت نہیں رکھی جائے گی“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔