حدیث نمبر: 4544
وَعَنْ عَدِيٍّ الْجُذَامِيِّ أَنَّهُ لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَانَتْ لِي امْرَأَتَانِ فَاقْتَتَلَتَا ، فَرَمَيْتُ إِحْدَاهُمَا فَقَتَلْتُهَا فَقَالَ : " اعْقِلْهَا وَلَا تَرِثْهَا " فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاقَةٍ [حَمْرَاءَ] جَدْعَاءَ ، وَهُوَ يَقُولُ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، تَعَلَّمُوا فَإِنَّمَا الْأَيْدِي ثَلَاثَةٌ : فَيَدُ اللَّهِ الْعُلْيَا ، وَيَدُ الْمُعْطِي الْوُسْطَى ، وَيَدُ الْمُعْطَى السُّفْلَى ، فَتَعَفَّفُوا وَلَوْ بِحُزَمِ الْحَطَبِ أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ ؟ [ أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ ؟ ]" . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَلَهُ طَرِيقٌ تَأْتِي فِي الْفَرَائِضِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عدی جذامی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ ایک سفر کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میری دو بیویاں تھیں ، اُن دونوں کی لڑائی ہوئی ، میں نے اُن دونوں میں سے ایک کو مار کے اسے قتل کر دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اس کی دیت دو گے اور تم اُس کے وارث نہیں بنو گے ، راوی کہتے ہیں : یہ منظر آج بھی میری نگاہ میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سرخ اونٹنی جدعاء پر سوار تھے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے : ” اے لوگو ! تم لوگ یہ بات جان لو کہ ہاتھ تین قسم کے ہوتے ہیں ، اللہ تعالیٰ کا ہاتھ سب سے اوپر والا ہے ، دینے والے کا ہاتھ درمیانی ہے ، اور لینے والے کا ہاتھ نیچے والا ہے ، تو تم مانگنے سے بچو ! خواہ لکڑیاں اکھٹی کر کے کرو ، خبردار ! کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے ؟ خبردار ! کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے ؟ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی ایک اور سند بھی ہے ، جو فرائض سے متعلق باب میں آگے آئے گی ، اگر اللہ نے چاہا ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4544
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (110/17) . اخرجه ابو يعلى فى المسند *(6859)»