حدیث نمبر: 4517
وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ أَنَّهُ قَالَتْ لَهُ أُمُّهُ : أَلَا نَنْطَلِقُ فَنَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا يَسْأَلُهُ النَّاسُ ؟ فَانْطَلَقْتُ أَسْأَلُهُ فَوَجَدْتُهُ قَائِمًا يَخْطُبُ ، وَهُوَ يَقُولُ : " مَنِ اسْتَعَفَّ أَعَفَّهُ اللَّهُ ، وَمَنِ اسْتَغْنَى أَغْنَاهُ اللَّهُ ، وَمَنْ سَأَلَ النَّاسَ وَلَهُ عِدْلُ خَمْسِ أَوَاقٍ فَقَدْ سَأَلَ إِلْحَافًا " . قَالَ : فَقُلْتُ - بَيْنِي وَبَيْنَ نَفْسِي - : لَنَاقَةٌ لَهَا خَيْرٌ مِنْ خَمْسِ أَوَاقٍ ، وَلِفُلَانَةَ نَاقَةٌ أُخْرَى خَيْرٌ مِنْ خَمْسِ أَوَاقٍ ، فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَسْأَلْهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

جعفر بن عبداللہ بن حکم نے ، اپنے والد کے حوالے سے ، مزینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص ( یعنی صحابی ) کے بارے میں یہ ذکر کیا ہے کہ اُس کی والدہ نے اُس سے کہا: کیا ہم چلیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگیں نہیں ؟ جس طرح لوگ آپ سے مانگتے ہیں ، راوی کہتے ہیں : میں روانہ ہوا ، تاکہ کچھ مانگوں ، تو میں نے آپ کو کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے پایا ، آپ یہ ارشاد فرما رہے تھے : ” جو شخص مانگنے سے بچتا ہے ، اللہ تعالیٰ اسے بچا کے رکھتا ہے ، جو شخص بے نیازی اختیار کرتا ہے ، اللہ تعالی اسے بے نیازی عطا کرتا ہے ، جس شخص کے پاس پانچ اوقیہ کے برابر رقم موجود ہو ، تو وہ لپٹ کر مانگنے والا شمار ہوتا ہے “ ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے سوچا اس خاتون ( یعنی میری والدہ ) کے پاس ، جو اونٹنی ہے ، وہ تو پانچ اوقیہ سے زیادہ بہتر ہے ، اور فلاں خاتون کے پاس جو اونٹنی ہے ، وہ بھی پانچ اوقیہ سے زیادہ بہتر ہے ، تو میں واپس آ گیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ نہیں مانگا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4517
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔