مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي السُّؤَالِ . باب: مانگنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : دَخَلَ رَجُلَانِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلَانِهِ فِي شَيْءٍ ، فَأَعَانَهُمَا بِدِينَارَيْنِ ، فَخَرَجَا فَإِذَا هُمَا يُثْنِيَانِ خَيْرًا ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَأَيْتُ فُلَانًا وَفُلَانًا خَرَجَا مِنْ عِنْدِكَ يُثْنِيَانِ خَيْرًا . قَالَ : " لَكِنَّ فُلَانًا مَا يَقُولُ ذَلِكَ ، وَقَدْ أَعْطَيْتُهُ مَا بَيْنَ عَشَرَةٍ إِلَى مِائَةٍ فَمَا يَقُولُ ذَلِكَ ؟ وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَخْرُجُ بِصَدَقَتِهِ مِنْ عِنْدِي مُتَأَبِّطُهَا وَإِنَّمَا هِيَ لَهُ نَارٌ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ تُعْطِيهِ وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّهَا لَهُ نَارٌ ؟ قَالَ : " فَمَا أَصْنَعُ ؟ يَأْتُونِي يَسْأَلُونِي ، وَيَأْبَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِيَ الْبُخْلَ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : دو آدمی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی چیز مانگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دینار کے ذریعے ان کی مدد کی ، پھر وہ دونوں نکلے ، تو وہ دونوں تعریف کر رہے تھے ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے عرض کی : میں نے فلاں اور فلاں کو دیکھا ، وہ دونوں آپ کے پاس سے نکلے اور وہ دونوں تعریف کر رہے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ؛ لیکن فلاں کو تو یہ بات نہیں کہنی چاہیئے ، اُسے تو میں نے دس سے لے کر ایک سو کے درمیان کی رقم عطا کی ہے وہ ایسا کیوں کہہ رہا تھا ؟ تم میں سے کوئی ایک شخص میرے پاس سے کوئی چیز لے کر بغل میں دبا کے نکلتا ہے ، اور وہ چیز اس کے لئے آگ ہوتی ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر آپ اسے کیوں دے دیتے ہیں ؟ جبکہ آپ یہ بات جانتے ہیں ، وہ چیز اس کے لئے آگ ہوتی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر میں کیا کروں ؟ وہ میرے پاس آ کر مجھ سے مانگتے ہیں اور اللہ تعالیٰ میرے لئے بخل سے انکار کرتا ہے ( یعنی اسے میری طرف سے بخل منظور نہیں ہے ) ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح“ میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔