مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ لَا تَحِلُّ لَهُ الزَّكَاةُ . باب: کس شخص کے لئے زکوۃ ( لینا ) حلال نہیں ہے ؟
وَعَنْ مِينَاءَ أَنَّهُمْ جَاءُوا إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فِي زَمَنِ عُثْمَانَ فَقَالُوا : أَعْطِنَا أُعْطِيَاتِنَا فَقَالَ : مَا لَكَمَ عِنْدِي عَطَاءٌ إِنَّمَا عَطَاؤُكُمْ مِنْ فَيْئِكُمْ وَمِنْ جِزْيَتِكُمْ ، وَالصَّدَقَةُ لِأَهْلِهَا . فَلَمَّا تَرَدَّدُوا إِلَيْهِ جَاءَ بِالْمَفَاتِيحِ إِلَى عُثْمَانَ فَرَمَى بِهَا ، وَقَالَ : إِنِّي لَسْتُ بِخَازِنٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . وَمِينَاءُ فِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤میناء بیان کرتے ہیں : وہ لوگ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، یہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت کی بات ہے ، ان لوگوں نے کہا: ہماری تنخواہیں ہمیں دے دیں ، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہاری کوئی تنخواہ میرے پاس نہیں ہے ، تمہاری تنخواہ مال فئے میں سے اور جزیہ میں سے دی جاتی ہے ، زکوۃ اُس کے مستحق افراد کو ہی دی جائے گی ، جب لوگوں نے بار بار اُن کے پاس آنا شروع کیا ، تو وہ چابیاں لے کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان کے سامنے رکھ دیں اور یہ کہا: میں خزانچی نہیں بنوں گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، میناء نامی راوی کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ، ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔