حدیث نمبر: 4496
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ ، وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” خوشحال شخص کے لئے اور صحیح اعضاء کے مالک ( یعنی جو اپاہج نہ ہو ) قوت والے شخص کے لئے زکوۃ وصول کرنا حلال نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 4497
وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ أَنَّ رَجُلَيْنِ أَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَسْأَلَانِهِ مِنَ الصَّدَقَةِ ، فَرَفَعَ لَهُمَا بَصَرَهُ ، وَخَفَضَهُ ، فَرَآهُمَا رَجُلَيْنِ جَلْدَيْنِ فَقَالَ : " إِنْ شِئْتُمَا أَعَنْتُكُمَا وَلَا حَظَّ فِيهَا لِغَنِيٍّ ، وَلَا لِقَوِيٍّ مُكْتَسِبٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عبیداللہ بن عدی بن خیار بیان کرتے ہیں : دو آدمی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حجتہ الوداع کے موقع پر حاضر ہوئے ، ان دونوں نے آپ سے صدقہ کے بارے میں دریافت کیا ( یا آپ سے صدقہ مانگا ) ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نگاہ اٹھا کر اُن کا اچھی طرح سے جائزہ لیا ، آپ نے ان دونوں کو ملاحظہ فرمایا کہ وہ مضبوط جسم کے مالک ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تم چاہو تو میں تم دونوں کی مدد کر دیتا ہوں ، لیکن زکوٰۃ میں کسی خوشحال شخص ، یا کمانے کی قوت رکھنے والے طاقتور کا کوئی حصہ نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 4498
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ ، وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” صدقہ ( لینا ) کسی خوشحال شخص کے لئے یا اور صحیح اعضاء کے مالک ( یعنی جو اپاہج نہ ہو ) قوت والے شخص کے لئے حلال نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 4499
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي هِلَالٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا تَحِلُّ الْمَسْأَلَةُ لِغَنِيٍّ ، وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا النَّحْوِ فِي الْبَابِ الْآتِي ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
بنو ہلال سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” مانگنا کسی خوشحال کے لئے ، اور صحیح اعضاء کے مالک ( یعنی جو اپاہج نہ ہو ) قوت والے شخص کے لئے حلال نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس نوعیت کی دیگر احادیث آگے والے باب میں آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس نوعیت کی دیگر احادیث آگے والے باب میں آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
حدیث نمبر: 4500
وَعَنْ مِينَاءَ أَنَّهُمْ جَاءُوا إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فِي زَمَنِ عُثْمَانَ فَقَالُوا : أَعْطِنَا أُعْطِيَاتِنَا فَقَالَ : مَا لَكَمَ عِنْدِي عَطَاءٌ إِنَّمَا عَطَاؤُكُمْ مِنْ فَيْئِكُمْ وَمِنْ جِزْيَتِكُمْ ، وَالصَّدَقَةُ لِأَهْلِهَا . فَلَمَّا تَرَدَّدُوا إِلَيْهِ جَاءَ بِالْمَفَاتِيحِ إِلَى عُثْمَانَ فَرَمَى بِهَا ، وَقَالَ : إِنِّي لَسْتُ بِخَازِنٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . وَمِينَاءُ فِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
میناء بیان کرتے ہیں : وہ لوگ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، یہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت کی بات ہے ، ان لوگوں نے کہا: ہماری تنخواہیں ہمیں دے دیں ، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہاری کوئی تنخواہ میرے پاس نہیں ہے ، تمہاری تنخواہ مال فئے میں سے اور جزیہ میں سے دی جاتی ہے ، زکوۃ اُس کے مستحق افراد کو ہی دی جائے گی ، جب لوگوں نے بار بار اُن کے پاس آنا شروع کیا ، تو وہ چابیاں لے کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان کے سامنے رکھ دیں اور یہ کہا: میں خزانچی نہیں بنوں گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، میناء نامی راوی کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ، ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، میناء نامی راوی کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ، ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔