مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابُ الصَّدَقَةِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِآلِهِ وَلِمَوَالِيهِمْ . باب: نبی اکرم ﷺ ، آپ کی آل اور آپ کے موالی کے لئے صدقہ کا حکم
وَعَنْهُ قَالَ : بَعَثَ نَوْفَلُ بْنُ الْحَارِثِ ابْنَيْهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُمَا : انْطَلِقَا إِلَى ابْنِ عَمِّكُمَا لَعَلَّهُ يَسْتَعِينُ بِكُمَا عَلَى الصَّدَقَاتِ ، لَعَلَّكُمَا تُصِيبَانِ شَيْئًا فَتَتَزَوَّجَانِ . فَلَقِيَا عَلِيًّا رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَقَالَ : أَيْنَ تَأْخُذَانِ ؟ فَحَدَّثَاهُ حَاجَتَهُمَا . فَقَالَ لَهُمَا : ارْجِعَا [فَرَجَعَا] . فَلَمَّا أَمْسَيَا أَمْرَهُمَا أَنْ يَنْطَلِقَا إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا دَفَعَا الْبَابَ اسْتَأْذَنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَائِشَةَ : " أَرْخِي عَلَيْكِ سَجَفَكِ ، أُدْخِلْ عَلَيَّ ابْنَيْ عَمِّي " . فَحَدَّثَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَاجَتِهِمَا ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَحِلُّ لَكُمَا أَهْلَ الْبَيْتِ مِنَ الصَّدَقَاتِ شَيْءٌ ، وَلَا غُسَالَةُ أَيْدِي النَّاسِ . إِنَّ لَكُمْ فِي خُمْسِ الْخُمْسِ لَمَا يُغْنِيكُمْ - أَوْ يَكْفِيكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ قَيْسٍ الْمُلَقَّبُ بِحَنَشٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ أَبُو مِحْصَنٍ . ¤ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نوفل بن حارث نے ، اپنے دو صاحبزادوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا اور ان سے کہا: تم دونوں اپنے چچازاد کے پاس جاؤ ! ہو سکتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں زکوۃ وصول کرنے کے لئے اہلکار مقرر کر دیں گے ، اس طرح تم ایسی کمائی حاصل کر لو گے جس کے ذریعے تم شادی کر لو گے ، ان دونوں کی ملاقات سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ہوئی انہوں نے دریافت کیا : تم کیا چاہتے ہو ؟ ان دونوں نے اپنی ضرورت کے بارے میں بتایا ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان دونوں سے فرمایا : تم لوگ واپس چلے جاؤ ! وہ دونوں واپس چلے گئے ، جب شام ہوئی ، تو نوفل بن حارث نے ان دونوں کو ہدایت کی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے جائیں ، جب وہ دونوں دروازے پر آئے ، تو انہوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : تم پردہ کر لو ! میرے دو چچازاد اندر آنے لگے ہیں ، پھر ان دونوں صاحبان نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے کام کے سلسلے میں بات چیت کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے اہل بیت ! تمہارے لئے صدقہ میں سے کوئی بھی چیز جائز نہیں ہے ، جو لوگوں کے ہاتھوں کا میل ہوتی ہے ، تمہارے لئے خمس کا پانچواں حصہ ہے ، وہ تمہیں بے نیاز کر دے گا ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) وہ تمہارے لئے کفایت کر جائے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن قیس ہے ، جس کا لقب حنش ہے ، اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ، ابومحصن نے اُسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔