مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابُ الصَّدَقَةِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِآلِهِ وَلِمَوَالِيهِمْ . باب: نبی اکرم ﷺ ، آپ کی آل اور آپ کے موالی کے لئے صدقہ کا حکم
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنْ فِتْيَانًا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اسْتَعْمِلْنَا عَلَى الصَّدَقَةِ ، نُصِيبُ مِنْهَا مَا يُصِيبُ النَّاسُ ، وَنُؤَدِّي كَمَا يُؤَدُّونَ ، فَقَالَ : " إِنَّا آلَ مُحَمَّدٍ لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ ، وَهِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ ، وَلَكِنْ مَا ظَنُّكُمْ إِذَا أَخَذْتُ بِحَلْقَةِ بَابِ الْجَنَّةِ هَلْ أُؤْثِرُ عَلَيْكُمْ أَحَدًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ وَالِدُ ابْنِ الْمَدِينِيِّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : بنوہاشم سے تعلق رکھنے والے کچھ نوجوان ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمیں زکوۃ وصول کرنے کا اہلکار مقرر کریں ، تاکہ ہم اس کے حوالے سے وہ چیز حاصل کر لیں جو لوگ حاصل کرتے ہیں ، ہم بھی اُسی طرح ادائیگی کریں گے ، جس طرح لوگ ادائیگی کرتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک ہم آل محمد ، ہمارے لئے صدقہ حلال نہیں ہے ، یہ لوگوں کا میل ہے ، لیکن تمہارے بارے میں میرا یہ گمان نہیں ہے کہ جب میں جنت کی کنڈی کو پکڑوں گا ، تو کسی کو تم پر ترجیح دوں گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن جعفر ہے ، جو علی بن مدینی کا والد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔