مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابُ الصَّدَقَةِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِآلِهِ وَلِمَوَالِيهِمْ . باب: نبی اکرم ﷺ ، آپ کی آل اور آپ کے موالی کے لئے صدقہ کا حکم
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْقَمَ بْنَ أَبِي أَرْقَمَ الزُّهْرِيَّ عَلَى بَعْضِ الصَّدَقَةِ ، فَمَرَّ بِأَبِي رَافِعٍ فَاسْتَتْبَعَهُ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ : " يَا أَبَا رَافِعٍ ، إِنَّ الصَّدَقَةَ حَرَامٌ عَلَى مُحَمَّدٍ ، وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَإِنَّ مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْهُمْ - أَوْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ - " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ارقم بن ابوارقم رضی اللہ عنہ کو صدقہ وصول کرنے کے لئے بھیجا ، اُن کا گزر سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا تو سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کو بھی انہوں نے اپنے ساتھ لے لیا ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور آپ کے سامنے یہ بات ذکر کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے ابورافع ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے لئے اور آل محمد کے لئے صدقہ حرام ہے ، اور قوم کا غلام ، قوم کا فرد ہوتا ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) اُن میں سے ایک ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت ابویعلیٰ نے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔