مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابُ الصَّدَقَةِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِآلِهِ وَلِمَوَالِيهِمْ . باب: نبی اکرم ﷺ ، آپ کی آل اور آپ کے موالی کے لئے صدقہ کا حکم
وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ ، وَأَنَا مَمْلُوكٌ ، فَقُلْتُ : هَذِهِ صَدَقَةٌ . فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ فَأَكَلُوا وَلَمْ يَأْكُلْ . ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِطَعَامٍ فَقُلْتُ : هَذِهِ هَدِيَّةٌ أَهْدَيْتُهَا لَكَ أُكْرِمُكَ بِهَا ، فَإِنِّي رَأَيْتُكَ لَا تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ ، فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ ، فَأَكَلُوا ، وَأَكَلَ مَعَهُمْ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا لے کے آیا ، میں ایک غلام تھا ، میں نے عرض کی : یہ صدقہ ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو حکم دیا ، تو انہوں نے اسے کھا لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہیں کھایا ، پھر میں کھانا لے کے آیا ، میں نے عرض کی : یہ ہدیہ ہے ، میں اسے آپ کو ہدیہ کے طور پر پیش کر رہا ہوں ، تاکہ اس کے ذریعے آپ کی عزت افزائی کروں ، کیونکہ میں نے آپ کو دیکھا ہے ، آپ صدقہ نہیں کھاتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ وہ اُسے کھائیں اور اُن کے ساتھ آپ نے خود بھی اس کو کھایا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، وہ ثقہ ہے ، لیکن تدلیس کرنے والا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔