مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابُ الصَّدَقَةِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِآلِهِ وَلِمَوَالِيهِمْ . باب: نبی اکرم ﷺ ، آپ کی آل اور آپ کے موالی کے لئے صدقہ کا حکم
وَعَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عَلَيْهِمَا الرِّضْوَانُ فَسُئِلَ مَا عَقَلْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ [ أَوْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ] قَالَ : كُنْتُ أَمْشِي مَعَهُ فَمَرَّ عَلَى جَرِينٍ مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ ، فَأَخَذْتُ تَمْرَةً فَأَلْقَيْتُهَا فِي فِيَّ ، فَأَخَذَهَا بِلُعَابِهَا ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ : وَمَا عَلَيْكَ لَوْ تَرَكْتَهَا ؟ فَقَالَ : " إِنَّا آلَ مُحَمَّدٍ لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ " . قَالَ : وَعَقَلْتُ مِنْهُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤ابوحوراء بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے ، ان سے دریافت کیا گیا : آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ، یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کیا چیز یاد ہے ؟ تو انہوں نے بتایا : میں ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلتا ہوا جا رہا تھا ، آپ کا گزر صدقہ کی کھجوروں کے ڈھیر کے پاس سے ہوا ، تو میں نے ایک کھجور لی ، اور اپنے منہ میں ڈال لی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لعاب سمیت لے لیا ، حاضرین میں سے کسی نے عرض کی : اگر آپ یہ رہنے دیتے ، تو کوئی حرج بھی نہیں تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بے شک ، ہم یعنی آل محمد ، ہمارے لئے صدقہ حلال نہیں ہے ۔ سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے بتایا : مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے پانچ نمازوں کا حکم بھی یاد ہے ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔