مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْعَشَّارِينَ ، وَالْعُرَفَاءِ ، وَأَصْحَابِ الْمُكُوسِ . باب: عشر وصول کرنے والے ، عرفاء ( یعنی سرکاری اہلکاروں ) ٹیکس وصول کرنے والوں کا بیان
عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تُفْتَحُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ نِصْفَ اللَّيْلِ ، فَيُنَادِي مُنَادٍ : هَلْ مِنْ دَاعٍ فَيُسْتَجَابُ لَهُ ؟ هَلْ مِنْ سَائِلٍ فَيُعْطَى ؟ هَلْ مَنْ مَكْرُوبٍ فَيُفَرَّجُ عَنْهُ ؟ فَلَا يَبْقَى مُسْلِمٌ يَدْعُو بِدَعْوَةٍ إِلَّا اسْتَجَابَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ إِلَّا زَانِيَةً تَسْعَى بِفَرْجِهَا ، أَوْ عَشَّارًا " . ¤معجم اوسط میں بھی اسے نقل کیا ہے ، تا ہم اس کے الفاظ یہ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” نصف رات کے وقت آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور منادی پکار کر یہ کہتا ہے : کیا کوئی دعا کرنے والا ہے کہ اس کی دعا مستجاب ہو ؟ کیا کوئی مانگنے والا ہے کہ اسے دیا جائے ؟ کیا کوئی پریشانی کا شکار شخص ہے کہ اس کی پریشانی دور کر دی جائے ؟ تو جو بھی مسلمان اس وقت دعا کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول کرتا ہے ، البتہ زنا کرنے والی عورت ، یا عشر وصول کرنے والے شخص کا معاملہ مختلف ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے الفاظ یہ ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے قریب ہو جاتا ہے ، اور جو بھی مغفرت طلب کرتا ہے اس کی مغفرت کر دیتا ہے ، البتہ زنا کرنے والی عورت اور عشر ( یعنی بھتہ ) وصول کرنے والے شخص کا معاملہ مختلف ہے “ ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ ان میں ایک راوی علی بن زید ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، ویسے اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔ اس حدیث کے مختلف طرق ہیں ، جو آگے چل کر مناسب مقامات پر آئیں گے ، اگر اللہ نے چاہا ۔