مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يُخَافُ عَلَى الْعُمَّالِ . باب: سرکاری اہلکاروں کے حوالے سے کس بات کا اندیشہ ہے ؟
وَعَنْ جَهْمِ بْنِ فَضَالَةَ قَالَ : دَخَلْتُ مَسْجِدَ دِمَشْقَ فَإِذَا فِيهِ أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ يَتَفَلَّى ، وَيَدْفِنُ الْقَمْلَ فِيهِ ، فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَسَبَّحَ ثَلَاثًا ، وَحَمِدَ ثَلَاثًا ، وَكَبَّرَ ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَالَ : خَفِيفَاتٌ عَلَى اللِّسَانِ ، ثَقِيلَاتٌ فِي الْمِيزَانِ يَصْعَدْنَ إِلَى الرَّحْمَنِ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا أُمَامَةَ ، أَنَا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ ، وَإِنَّ الْمُصَدِّقِينَ يَأْتُونَا فَيَتَعَدَّوْنَ عَلَيْنَا ؟ فَقَالَ : الصَّدَقَةُ حَقٌّ ، وَتُبَّاعُهَا فِي النَّارِ ، قَوْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصَّرَ أَوْ تَعَدَّى ، جِيئُوا بِالْمَالِ وَلَا تُغَيِّبُوا مِنْهَا شَيْئًا فَتُخْبِثُوا مَا غَيَّبْتُمْ وَمَا جِئْتُمْ بِهِ ، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَلَا تَسُبُّوهُمْ ، وَاسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهِمْ . ¤جہم بن فضالہ بیان کرتے ہیں : میں مسجد دمشق میں داخل ہوا ، تو وہاں سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے جوئیں نکال رہے تھے ، اور جوئیں زمین میں دفن کر رہے تھے ، میں ان کے پاس بیٹھ گیا انہوں نے تین مرتبہ سبحان اللہ کہا: ، تین مرتبہ الحمد للہ کہا: اور تین مرتبہ اللہ اکبر کہا: ، پھر انہوں نے ارشاد فرمایا : کچھ چیزیں ہیں ، جو زبان پر ہلکی ہیں اور میزان میں بھاری ہوں گی ، اور رحمان کی طرف اوپر جاتی ہیں ، میں نے کہا: اے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ ! میں یہات کا رہنے والا شخص ہوں ، زکوۃ وصول کرنے والے ہمارے پاس آتے ہیں اور ہمارے ساتھ زیادتی کرتے ہیں ، تو سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : صدقہ حق ہے ، اور اس میں زیادتی کرنے والے جہنم میں جائیں گے ، یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے ثابت ہے خواہ وہ اس میں کمی کریں ، یا زیادتی کریں ، تم لوگ مال لے آؤ ، اس مال میں سے کچھ بھی نہ چھپاؤ تم جو کچھ چھپاؤ گے ، یا جو کچھ لے کے آؤ گے اس کو خراب نہ کرو اور جب تم انہیں دیکھو ( کہ وہ زیادتی کر رہے ہیں ) تو انہیں برا نہ کہو ، لیکن اُن کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو ! ۔