مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يُخَافُ عَلَى الْعُمَّالِ . باب: سرکاری اہلکاروں کے حوالے سے کس بات کا اندیشہ ہے ؟
وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَهُ سَاعِيًا قَالَ : " انْظُرْ أَبَا مَسْعُودٍ ، وَلَا أُلْفِيَنَّكَ تَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى ظَهْرِكَ بَعِيرٌ لَهُ رُغَاءٌ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ قَدْ غَلَلْتَهُ " . قَالَ : مَا أَنَا بِسَائِرٍ فِي وَجْهِي هَذَا . قَالَ : " إِذًا لَا أُكْرِهُكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں زکوۃ کی وصولی کے لئے بھیجا ، تو ارشاد فرمایا : ” اے ابومسعود ! تم اس بات کا دھیان رکھنا کہ میں تمہیں ایسی حالت میں ہرگز نہ پاؤں کہ جب تم قیامت کے دن آؤ تو تمہاری پشت پر اونٹ موجود ہو ، جو آواز نکال رہا ہو ، اور وہ صدقے کا اونٹ ہو ، جسے تم نے خیانت کے طور پر حاصل کیا ہو تو سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں تو یہ کام کبھی نہیں کروں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایسی صورت میں ، میں تمہیں مجبور بھی نہیں کروں گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔