مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابُ الْعُمَّالِ عَلَى الصَّدَقَةِ وَمَا لَهُمْ مِنْهَا . باب: زکوۃ وصول کرنے کے اہلکار ، اور اُنہیں اِس حوالے سے کیا ملے گا ؟
وَعَنْ سَلَمَةَ الْهَمْدَانِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى قَيْسِ بْنِ مَالِكٍ الْأَرْحَبِيِّ : " بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ ، مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى قَيْسِ بْنِ مَالِكٍ سَلَامٌ عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ وَمَغْفِرَتُهُ ، أَمَّا بَعْدُ : فَذَاكُمْ أَنِّي اسْتَعْمَلْتُكَ عَلَى قَوْمِكَ : عُرْبِهِمْ وَخُمُورِهِمْ ، وَمَوَالِيهِمْ وَحَاشِيَتِهِمْ ، وَأَعْطَيْتُكَ مِنْ ذُرَّةِ يَسَارٍ مِائَتَيْ صَاعٍ مِنْ زَبِيبِ خَيْوَانَ مِائَتَيْ صَاعٍ ، جَارٍ ذَلِكَ لَكَ وَلِعَقِبِكَ مِنْ بَعْدِكَ أَبَدًا أَبَدًا [ قَالَ قَيْسُ وَقَوْلُ رَسُولِ اللَّهِ أَبَدًا أَبَدًا ] أَحَبُّ إِلَيَّ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَبْقَى[ لِي ] عَقِبِي أَبَدًا . ¤ قَالَ يَحْيَى : عُرْبُهُمْ : أَهْلُ الْبَادِيَةِ ، وَخُمُورُهُمْ : أَهْلُ الْقُرَى . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ سَلَمَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا سلمہ ہمدانی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیس بن مالک ارحبی کی طرف خط لکھا : ” اے اللہ ! تیرے اسم سے برکت حاصل کرتے ہوئے ( میں آغاز کرتا ہوں ) یہ اللہ کے رسول سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قیس بن مالک کے نام ہے ، تم پر سلام ہو ، اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں اور اس کی مغفرت نازل ہو ، اما بعد ! میں تمہیں تمہاری قوم پر عامل مقرر کرتا ہوں ، اُن کے دیہاتیوں پر بھی ، اور شہروں پر بھی اُن کے موالیوں پر بھی اور جانوروں پر بھی ، اور میں تمہیں یسار ( یہ یمن میں موجود ایک پہاڑ کا نام ہے ) کے اناج کے دو سو صاع ، اور خیوان ( یہ یمن کا ایک شہر ہے ) کی کشمش کے دو سو صاع دیتا ہوں ( یعنی یہ تمہاری تنخواہ مقرر کرتا ہوں ) ، اور یہ خدمت تمہارے لئے اور تمہارے بعد تمہاری آل اولاد کے لئے ہمیشہ ہمیشہ برقرار رہے گی “ ۔ قیس نامی صاحب کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ” ہمیشہ ، ہمیشہ رہے گی “ یہ میرے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ ہے اب مجھے یہ توقع ہے کہ اب میری اولاد ہمیشہ ، ہمیشہ رہے گی ۔ یحیی نامی راوی کہتے ہیں : ” عربہم “ سے مراد ، دیہاتی لوگ ہیں اور خمورہم “ سے مراد شہری ، یعنی بستیوں کے رہنے والے لوگ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن یحیی بن سلمہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔