مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي الْمُنَافِقِينَ . باب: منافقین کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عُمَرَ فَقَالَ : يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ ، أَتَخْشَى أَنْ يَتْرُكَ النَّاسُ الْإِسْلَامَ وَيَخْرُجُونَ مِنْهُ ؟ قُلْتُ : لَا - إِنْ شَاءَ اللَّهُ - وَكَيْفَ يَتْرُكُونَهُ وَفِيهِمْ كِتَابُ اللَّهِ وَسُنَنُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقَالَ : لَئِنْ كَانَ مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ لَيَكُونَنَّ بَنُو فُلَانٍ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
سیدنا عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو انہوں نے فرمایا : اے عبدالرحمن بن عوف ! کیا تمہیں یہ اندیشہ ہے کہ لوگ اسلام کو ترک کر دیں گے اور اُس میں سے نکل جائیں گے ؟ میں نے جواب دیا : جی نہیں ! اگر اللہ نے چاہا ( تو ایسا نہیں ہو گا ) لوگ اسے کیسے چھوڑ سکتے ہیں ؟ جبکہ ان کے درمیان ، اللہ کی کتاب اور اللہ کے رسول کی سنتیں موجود ہیں ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر ایسا کچھ ہوا ، تو وہ ضرور بنوفلاں ہوں گے ( یعنی وہی لوگ اسلام کو ترک کریں گے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔