مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابُ الْخَرْصِ . باب: پیداوار کا اندازہ لگانا
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ وَهِيَ تَذْكُرُ شَأْنَ خَيْبَرَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُ ابْنَ رَوَاحَةَ إِلَى الْيَهُودِ ، فَيَخْرُصُ عَلَيْهِمُ النَّخْلَ حِينَ يَطِيبُ قَبْلَ أَنْ يُؤْكَلَ مِنْهُ ، ثُمَّ يُخَيِّرُونَ الْيَهُودَ أَنْ يَأْخُذُوهُ بِذَلِكَ الْخَرْصِ أَمْ يَدْفَعُوهُ إِلَيْهِمْ بِذَلِكَ ، وَإِنَّمَا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْخَرْصِ لِكَيْ لَا تُحْصَى الزَّكَاةُ قَبْلَ أَنْ تُؤْخَذَ الثَّمَرَةُ وَتُفَرَّقَ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ ذَكَرَ الزَّكَاةَ وَغَيْرَهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي رِوَايَةٍ : عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، وَفِي رِوَايَةٍ : عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أُخْبِرْتُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا خبیر کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے ، یہ بات بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کو یہودیوں کی طرف بھیجا ، وہ اُن کی کھجوروں کی پیداوار کا اندازہ لگاتے تھے ، یہ اس سے پہلے کی بات ہوتی تھی کہ جب کھجوریں کھائے جانے کے قابل ہو جاتیں ، اس کے بعد وہ یہودیوں کو اختیار دیتے تھے کہ اگر وہ چاہیں ، تو اس اندازے کے مطابق پیداوار وصول کریں ، یا پھر اتنی پیداوار اُن کے حوالے کر دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیداوار کا اندازہ ( پہلے ) لگانے کا حکم اس لئے دیا تھا ، تاکہ پھل کے اتارے جانے اور منتشر ہونے سے پہلے زکوۃ کو شمار کیا جا سکے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، جس میں زکوۃ اور دیگر چیزوں کا ذکر کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ انہوں نے ایک روایت میں یہ کہا: ہے : یہ ابن جریج کے حوالے سے ابن شہاب سے منقول ہے ، اور ایک روایت میں یہ کہا: ہے : ابن جریج کہتے ہیں : مجھے ابن شہاب کے حوالے سے یہ بات بیان کی گئی ہے ۔