مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي بَيَانِ الزَّكَاةِ . باب: زکوۃ کا بیان
وَعَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ مَسْرُوقَ بْنَ وَائِلٍ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ بِالْعَقِيقِ فَأَسْلَمَ وَحَسُنَ إِسْلَامُهُ وَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَبْعَثَ إِلَى قَوْمِي تَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ ، وَأَنْ تَكْتُبَ لِي كِتَابًا إِلَى قَوْمِي عَسَى اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُمْ . فَقَالَ لِمُعَاوِيَةَ : اكْتُبْ لَهُ ، فَكَتَبَ [ لَهُ ] : " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، إِلَى الْأَقْيَالِ مِنْ حَضْرَمَوْتَ بِإِقَامِ الصَّلَاةِ ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ، وَالصَّدَقَةِ عَلَى التِّيعَةِ ، وَالتِّيمَةِ ، وَفِي السَّيُوبِ الْخُمْسُ ، وَفِي الْبَعْلِ الْعُشْرُ ، لَا خِلَاطَ وَلَا وِرَاطَ ، وَلَا شِغَارَ وَلَا شِنَاقَ ، وَلَا جَنَبَ ، وَلَا جَلَبَ بِهِ ، وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ بَعِيرَيْنِ فِي عِقَالٍ ، مَنْ أَجْبَى فَقَدْ أَرْبَى ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " . ¤ وَبَعَثَ إِلَيْهِمْ زِيَادُ بْنُ لَبِيبٍ الْأَنْصَارِيُّ . ¤ أَمَّا الْخِلَاطُ : فَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَاشِيَةِ . ¤ وَأَمَّا الْوِرَاطُ : فَلَا يُقَوِّمُهَا بِالْقِيمَةِ . ¤ وَأَمَّا الشِّغَارُ : فَيُزَوِّجُ الرَّجُلُ ابْنَتَهُ ، وَيُنْكِحُ الْآخَرُ ابْنَتَهُ بِلَا مَهْرٍ . ¤ وَالشِّنَاقُ : أَنْ يَعْقِلَهَا فِي مَبَارِكِهَا . ¤ وَالْإِجْبَاءُ : أَنْ تُبَاعَ الثَّمَرَةُ قَبْلَ أَنْ تُؤْمَنَ عَلَيْهَا الْعَاهَةُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤ضحاک بن نعمان بن سعد بیان کرتے ہیں : سیدنا مسروق بن وائل رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ” عقیق “ کے مقام پر حاضر ہوئے ، انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور ان کا اسلام عمدہ ہوا ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ میری قوم کی طرف کسی کو بھیجیں ، اور انہیں اسلام کی دعوت دیں ، آپ میرے لئے ایک تحریر لکھ دیں ، جو میری قوم کے نام ہو ، ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت نصیب کرے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ تم اسے تحریر لکھ دو ! تو انہوں نے اسے تحریر لکھ کے دی : ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ، یہ ” حضر موت “ کے اکابرین کے نام ہے کہ نماز قائم کی جائے ، زکوۃ ادا کی جائے ، تیعہ ( یعنی چالیس بکریوں ) اور تیمہ ( ایک قول کے مطابق اس سے مراد وہ بکریاں ہیں جو چالیس سے زائد ہوں ، یہاں تک کہ ان کی تعداد اگلے فریضہ تک پہنچ جائے اور ایک قول کے مطابق اس سے مراد وہ بکری ہے جو گھر میں ذاتی استعمال کا دودھ حاصل کرنے کے لیے ہو ) ، میں صدقہ ( یعنی زکوۃ ) لازم ہو گی ، جبکہ سیوب ( وہ مال جو زمانہ جاہلیت میں دفن کیا گیا تھا اگر وہ کسی کو مل جاتا ہے ، تو اس ) میں خمس کی ادائیگی لازم ہو گی ، بارانی زمین ( کی پیداوار میں ) عشر کی ادائیگی لازم ہو گی ، نہ ” خلاط “ ہو گا ، اور نہ ” وراط “ ہو گا ، نہ ” شغار “ ہو گا ، نہ ” شناق “ ہو گا ، نہ ” جنب “ ہو گا ، نہ اُسے لایا جائے گا ، نہ ایک رسی میں دو اونٹوں کو اکھٹا کیا جائے گا ، جو شخص اجباء کرے گا ( یعنی کھیت کی پیداوار یا پھل وغیرہ کے پک کر تیار ہونے سے پہلے اس کو فروخت کرے گا ) ، وہ سود کا کام کرے گا ، اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے “ ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زیاد بن لبید انصاری رضی اللہ عنہ کو ان کی طرف بھیجا تھا ۔
( مصنف فرماتے ہیں : ) جہاں تک لفظ ” خلاط “ کا تعلق ہے ، تو اس سے مراد یہ ہے کہ جانوروں کو اکٹھا نہیں کیا جائے گا ۔ جہاں لفظ ” وراط “ کا تعلق ہے ، تو اس سے مراد یہ ہے کہ اُن کی قیمت کا تعین نہیں کیا جائے گا ۔ جہاں تک لفظ ” شغار “ کا تعلق ہے ، تو اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی اپنی بیٹی کی شادی کر دے ، اس شرط پر کہ دوسرا شخص بھی اپنی بیٹی کی شادی اُس کے ساتھ کر دے گا ، اور درمیان میں کوئی مہر نہ ہو ۔ لفظ ” شناق “ کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اُن کو ان کے بیٹھنے کی جگہ پر باندھ دے ۔ لفظ ” اجباء “ سے مراد یہ ہے کہ پھل کو فروخت کر دیا جائے ، اس سے پہلے کہ وہ آفت سے محفوظ ہو جائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے ، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔