حدیث نمبر: 4388
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى عُمَّالِهِ فِي سُنَّةِ الصَّدَقَاتِ : " فِي أَرْبَعِينَ شَاةً إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ . فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا شَاتَانِ إِلَى مِائَتَيْنِ . وَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا شَاتَانِ إِلَى ثَلَاثِمِائَةٍ . فَإِنْ كَثُرَتِ الْغَنَمُ فَفِي كُلِّ مِائَةِ شَاةٍ شَاةٌ " . ¤ وَكَتَبَ فِي صَدَقَةِ الْبَقَرِ : " فِي كُلِّ ثَلَاثِينَ بَقَرَةً جَذَعَةٌ ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بَقَرَةً مُسِنَّةٌ " . ¤ وَكَتَبَ فِي صَدَقَةِ الْإِبِلِ : " فِي خَمْسٍ شَاةٌ ، وَفِي عَشْرٍ شَاتَانِ ، وَفِي خَمْسَ عَشْرَةَ ثَلَاثُ شِيَاهٍ ، وَفِي عِشْرِينَ أَرْبَعُ شِيَاهٍ ، وَفِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ بِنْتُ مَخَاضٍ إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا بِنْتُ لَبُونٍ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْفَحْلِ إِلَى سِتِّينَ ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا جَذَعَةٌ إِلَى خَمْسَةٍ وَسَبْعِينَ ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا ابْنَتَا لَبُونٍ إِلَى تِسْعِينَ ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَحِقَّتَانِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ ، فَإِنْ كَثُرَتِ الْإِبِلُ فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ " . ¤ رَوَاهُمَا الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقات کے احکام میں اپنے عاملین کی طرف یہ تحریر کیا تھا : ” چالیس بکریوں سے لے کے ایک سو بیس تک میں ( ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی ) اگر ایک بھی زیادہ ہو جائے ، تو دو سو تک میں دو بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی ، اگر ایک بھی زیادہ ہو جائے ، تو تین سو تک میں تین ( یعنی بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی ) اگر بکریاں زیادہ ہو جائیں ، تو ہر ایک سو بکریوں میں ، ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گائیوں کی زکوۃ میں یہ تحریر کیا تھا : ہر تیس گائیوں میں ، ایک جذعہ اور ہر چالیس گائیوں میں ایک ممنہ کی ادائیگی لازم ہو گی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹوں کی زکوۃ میں یہ تحریر کیا تھا : پانچ اونٹوں میں ایک بکری کی ، دس اونٹوں میں دو بکریوں کی ، پندرہ اونٹوں میں تین بکریوں کی ، بیس اونٹوں میں چار بکریوں کی ، اور پچیس اونٹوں میں ایک بنت مخاض کی ادائیگی لازم ہو گی ، یہ حکم پینتیس تک کے لئے ہے ، اگر ایک بھی زیادہ ہو جائے ، تو پنتالیس تک ایک بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی ، اگر ایک بھی زیادہ ہو جائے ، تو ایک حقہ کی ادائیگی لازم ہو گی ، جسے جفتی کے لئے دیا جا سکے ، یہ حکم ساتھ تک کے لئے ہے ، اگر ایک بھی زیادہ ہو جائے ، تو پچھتر تک میں ایک جذعہ کی ادائیگی لازم ہو گی ، اگر ایک بھی زیادہ ہو جائے ، تو نوے تک میں دو بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی ، اگر ایک بھی زیادہ ہو جائے تو ایک سو بیس تک میں دو حقوں کی ادائیگی لازم ہو گی ، اگر اونٹ زیادہ ہو جائیں ، تو ہر پچاس میں ایک حقہ کی اور ہر چالیس میں ایک بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی ۔
یہ دونوں روایات امام طبرانی نے معجم اوسط میں ، محمد بن اسماعیل بن عبداللہ کے حوالے سے ، اُن کے والد سے نقل کی ہیں اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4388
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف