مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي بَيَانِ الزَّكَاةِ . باب: زکوۃ کا بیان
وَعَنْ قَزَعَةَ قَالَ : أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ ، وَهُوَ مَكْنُوزٌ عَلَيْهِ ، فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ قُلْتُ : إِنِّي لَا أَسْأَلُكَ عَمَّا يَسْأَلُكَ عَنْهُ هَؤُلَاءِ . قَالَ : وَسَأَلْتُهُ عَنِ الزَّكَاةِ . فَقَالَ : - لَا أَدْرِي أَرَفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَمْ لَا - : " فِي مِائَةِ دِرْهَمٍ خَمْسَةُ الدَّرَاهِمِ ، وَفَى أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا شَاتَانِ إِلَى مِائَتَيْ ، فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ إِلَى ثَلَاثِمِائَةٍ ، فَإِذَا زَادَتْ فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ ، وَفِي الْإِبِلِ فِي خَمْسٍ شَاةٌ ، وَفِي عَشْرٍ شَاتَانِ ، وَفِي خَمْسَ عَشْرَةَ ثَلَاثُ شِيَاهٍ ، وَفِي عِشْرِينَ أَرْبَعُ شِيَاهٍ ، وَفِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ بِنْتُ مَخَاضٍ إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا [ ابْنَةُ لَبُونٍ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةٌ فَفِيهَا حُقَّةٌ إِلَى سِتِّينَ ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةٌ فَفِيهَا ] جَذَعَةٌ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا ابْنَتَا لَبُونٍ إِلَى تِسْعِينَ . فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا حِقَّتَانِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤قزعہ بیان کرتے ہیں : میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اُن کے پاس بہت سے لوگ موجود تھے ، جب لوگ ان کے پاس سے چلے گئے ، تو میں نے ان سے کہا: میں آپ سے اُس چیز کے بارے میں دریافت نہیں کروں گا ، جس کے بارے میں یہ ( لوگ ) آپ سے دریافت کر رہے تھے ، راوی بیان کرتے ہیں : میں نے اُن سے زکوٰۃ کے بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے جواب دیا : راوی کہتے ہیں : مجھے نہیں معلوم کہ کیا انہوں نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کر کے بیان کی تھی ؟ یا نہیں ؟ ( انہوں نے بتایا : ) ” ایک سو درہموں میں پانچ درہم کی ادائیگی لازم ہو گی ، چالیس بکریوں میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی ، یہ حکم ایک سو بیس تک کے لئے ہے ، اگر ایک بھی زیادہ ہو جائے ، تو ان میں دو سو تک دو بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی ، اگر زیادہ ہو جائیں ، تو تین سو تک میں تین بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی ، اگر زیادہ ہو جائیں ، تو ہر ایک سو میں ، ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی ، اونٹوں میں پانچ میں ، ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی ، دس میں دو بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی ، پندرہ میں تین بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی ، بیس میں چار بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی ، پچیس میں ایک بنت مخاض کی ادائیگی لازم ہو گی ، یہ حکم پینتیس تک کے لئے ہے ، اگر ایک بھی زیادہ ہو جائے تو پینتالیس تک میں ایک بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی ، اگر ایک بھی زیادہ ہو جائے ، تو ساٹھ تک میں ایک حقہ کی ادائیگی لازم ہو گی ، اگر ایک بھی زیادہ ہو جائے ، تو پچھتر تک میں ایک جذعہ کی ادائیگی لازم ہو گی ، اگر ایک بھی زیادہ ہوئے ، تو نوے تک میں دو بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی ، اگر ایک بھی زیادہ ہو جائے ، تو ایک سو بیس تک میں دو حقہ کی ادائیگی لازم ہو گی ، اگر ایک بھی زیادہ ہو جائے تو ہر پچاس میں ایک حقہ کی ، اور ہر چالیس میں ایک بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔