مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا كَانَ دُونَ النِّصَابِ وَمَا تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ . باب: اس چیز کا بیان ، جو نصاب سے کم ہو ، کس چیز میں زکوۃ لازم ہوتی ہے ؟
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : جَرَتِ السُّنَّةُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَدَاقِ النِّسَاءِ اثْنَتَا عَشْرَةَ أُوقِيَّةً ، وَالْأُوقِيَّةُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا ، فَذَلِكَ ثَمَانُونَ وَأَرْبَعُمِائَةٍ . ¤ وَجَرَتِ السُّنَّةُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ صَاعٌ وَالْوُضُوءِ رِطْلَيْنِ ، وَالصَّاعُ ثَمَانِيَةُ أَرْطَالٍ . ¤ وَجَرَتِ السُّنَّةُ فِيمَا أَخْرَجَتِ الْأَرْضُ مِنَ الْحِنْطَةِ ، وَالشَّعِيرِ ، وَالزَّبِيبِ ، وَالتَّمْرِ ، إِذَا بَلَغَ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ . وَالْوَسْقُ : سِتُّونَ صَاعًا فَذَلِكَ ثَلَاثُمِائَةِ صَاعٍ . بِهَذَا الصَّاعِ الَّذِي جَرَتْ بِهِ السُّنَّةُ . ¤ وَجَرَتِ السُّنَّةُ مِنْهُ - يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ أَنَّهُ ] لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ زَكَاةٌ . وَالْوَسْقُ : سِتُّونَ صَاعًا بِهَذَا الصَّاعِ ، فَذَلِكَ ثَلَاثُمِائَةِ صَاعٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ مُوسَى الطَّلْحِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے خواتین کے مہر کے بارے میں یہ سنت جاری ہے کہ وہ بارہ اوقیہ ہو گا ، ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے ، تو یہ چار سو اسی درہم ہو جائیں گے ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے غسل جنابت میں یہ سنت جاری ہوئی ہے کہ وہ ایک صاع پانی کے ذریعے کیا جائے گا ، اور وضو ، دو رطل پانی کے ذریعے کیا جائے گا ، ایک صاع میں آٹھ رطل ہوتے ہیں ۔ زمین سے جو بھی پیداوار ہوتی ہے ، جیسے گندم ، جو ، کشمش اور کھجور ، اُس کے بارے میں یہ سنت جاری ہوئی ہے کہ جب وہ پانچ وسق تک پہنچ جائے ( تو زکوۃ لازم ہو گی ) اور ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے ، تو یہ تین سو صاع ہو جائیں گے ، یہ اس صاع کے مطابق ہو گا ، جس کے مطابق سنت جاری ہوئی ہے ۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہ سنت جاری ہوئی ہے : پانچ وسق سے کم ( اناج ) میں زکوۃ واجب نہیں ہو گی ، ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے ، اس صاع کے حساب سے ہو گا ، تو اس اعتبار سے یہ تین سو صاع ہو جائیں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح بن موسیٰ طلحی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔