مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابُ فَرْضِ الزَّكَاةِ باب: زکوۃ کا فرضیت کا بیان
وَعَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا فِي رِسْلِهَا ، وَنَجْدَتِهَا إِلَّا جِيءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى تُبْطَحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا ، كُلَّمَا نَفِدَتْ أُولَاهَا اعْتَدَتْ عَلَيْهِ أُخْرَاهَا ، حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ وَيَرَى سَبِيلَهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو بھی اونٹوں کا مالک شخص ، اونٹوں کے بارے میں اُن کے تنگی اور آسانی ( یعنی وہ موٹے تازے ہوں یا کمزور ہوں ، ہر حال میں ) حق ( یعنی زکوۃ ) کو ادا نہیں کرے گا ، تو جب وہ قیامت کے دن آئے گا ، تو اسے ان اونٹوں کے سامنے ایک چٹیل میدان میں جائے گا ، وہ ( اونٹ ) اپنے پاؤں کے ذریعے اُسے روندیں گے جب ان میں سے پہلا ختم ہو جائے گا ، تو آخری دوبارہ سے شروع ہو جائے گا ، ایسا اس وقت تک ہوتا رہے گا ، جب تک لوگوں کے درمیان فیصلہ نہیں ہو جاتا ہے ، اس کے بعد وہ شخص اپنا راستہ دیکھے گا“ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔