مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي قَبْرِهِ ، فَيَقُولُ - أَوْ يُقَالُ - : انْظُرْ إِلَى مَجْلِسِكَ . ثُمَّ يَرَى الْقَبْرَ فَكَأَنَّمَا كَانَتْ رَقْدَةً ، فَإِذَا كَانَ عَدُوَّ اللَّهِ نَزَلَ بِهِ الْمَوْتُ وَعَايَنَ مَا عَايَنَ ، فَإِنَّهُ لَا يُحِبُّ أَنْ تَخْرُجَ رُوحُهُ أَبَدًا ، وَاللَّهُ يُبَغِضُ لِقَاءَهُ ، فَإِذَا جَلَسَ فِي قَبْرِهِ أَوْ أُجْلِسَ يُقَالُ لَهُ : مَنْ رَبُّكَ ؟ فَيَقُولُ : لَا أَدْرِي . فَيُقَالُ : لَا دَرَيْتَ . فَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ مِنْ جَهَنَّمَ ثُمَّ يُضْرَبُ ضَرْبَةً تُسْمِعُ كُلَّ دَابَّةٍ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ . ثُمَّ يُقَالُ لَهُ : نَمْ كَمَا يَنَامُ الْمَنْهُوسُ " . - فَقُلْتُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ : مَا الْمَنْهُوسُ ؟ قَالَ : الَّذِي تَنْهَشُهُ الدَّوَابُّ وَالْجَنَادِبُ - " ثُمَّ يُضَيَّقُ عَلَيْهِ قَبْرُهُ " . باب: قبر میں سوال ہونا
حدیث نمبر: 4274
وَعَنْ أَيُّوبَ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : كَانَتْ ثَائِرَةٌ فِي بَنِي مُعَاوِيَةَ ، فَذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْلِحُ بَيْنَهُمْ ، فَالْتَفَتَ إِلَى قَبْرٍ فَقَالَ : " لَا دَرَيْتَ " ، فَقِيلَ لَهُ ، فَقَالَ : " إِنَّ هَذَا يُسْأَلُ عَنِّي فَقَالَ : لَا أَدْرِي " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صُهْبَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
ایوب بن بشیر نے اپنے والد کا یہ بیان نقل کیا ہے : بنومعاویہ کے درمیان آپس میں اختلافات ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے درمیان صلح کروانے کے لئے تشریف لے گئے آپ نے ایک قبر کی طرف توجہ کی ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : تمہیں سمجھ بوجھ حاصل نہیں ہوئی اس بارے میں آپ سے دریافت کیا گیا ، تو آپ نے فرمایا : اس شخص سے میرے بارے میں دریافت کیا گیا تو اس نے کہا: مجھے نہیں معلوم ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن محمد بن صہبان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔