حدیث نمبر: 4275
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ بِاللَّيْلِ يَدْعُو بِالْبَقِيعِ وَمَعَهُ أَبُو رَافِعٍ ، فَدَعَا بِمَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدْعُوَ ، ثُمَّ انْصَرَفَ مُقْبِلًا ، فَمَرَّ عَلَى قَبْرٍ فَقَالَ : " أُفٍّ ، أُفٍّ ، أُفٍّ " . فَقَالَ لَهُ أَبُو رَافِعٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَا مَعَكَ غَيْرِي ؛ فَمِنِّي أَفَّفْتَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " [ لَا ] ، وَلَكِنِّي أَفَّفْتُ مِنْ صَاحِبِ هَذَا الْقَبْرِ الَّذِي سُئِلَ عَنِّي فَشَكَّ فِيَّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت نکلے آپ جنت البقیع والوں کے لئے دعا کرنا چاہتے تھے ۔ آپ کے ساتھ سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ تھے آپ واپس تشریف لے آئے واپسی پر آپ کا گزر ایک قبر کے پاس سے ہوا آپ نے فرمایا : اف ہے آف ہے آف ہے سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ کے ساتھ میرے علاوہ اور کوئی نہیں ہے کیا آپ میرے لئے یہ کہہ رہے ہیں ۔ اف ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں بلکہ میں اس قبر والے کے لئے اف ہے کہہ رہا ہوں جس سے میرے بارے میں دریافت کیا گیا تھا ، تو اسے میرے بارے میں شک تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4275
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «. اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (961)»