مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي قَبْرِهِ ، فَيَقُولُ - أَوْ يُقَالُ - : انْظُرْ إِلَى مَجْلِسِكَ . ثُمَّ يَرَى الْقَبْرَ فَكَأَنَّمَا كَانَتْ رَقْدَةً ، فَإِذَا كَانَ عَدُوَّ اللَّهِ نَزَلَ بِهِ الْمَوْتُ وَعَايَنَ مَا عَايَنَ ، فَإِنَّهُ لَا يُحِبُّ أَنْ تَخْرُجَ رُوحُهُ أَبَدًا ، وَاللَّهُ يُبَغِضُ لِقَاءَهُ ، فَإِذَا جَلَسَ فِي قَبْرِهِ أَوْ أُجْلِسَ يُقَالُ لَهُ : مَنْ رَبُّكَ ؟ فَيَقُولُ : لَا أَدْرِي . فَيُقَالُ : لَا دَرَيْتَ . فَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ مِنْ جَهَنَّمَ ثُمَّ يُضْرَبُ ضَرْبَةً تُسْمِعُ كُلَّ دَابَّةٍ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ . ثُمَّ يُقَالُ لَهُ : نَمْ كَمَا يَنَامُ الْمَنْهُوسُ " . - فَقُلْتُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ : مَا الْمَنْهُوسُ ؟ قَالَ : الَّذِي تَنْهَشُهُ الدَّوَابُّ وَالْجَنَادِبُ - " ثُمَّ يُضَيَّقُ عَلَيْهِ قَبْرُهُ " . باب: قبر میں سوال ہونا
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : بَيْنَا أَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَقِيعِ الْغَرْقَدِ وَأَنَا أَمْشِي خَلْفَهُ إِذْ قَالَ : " لَا هُدِيتَ وَلَا اهْتَدَيْتَ ، لَا هُدِيتَ وَلَا اهْتَدَيْتَ ، لَا هُدِيتَ وَلَا اهْتَدَيْتَ " . قَالَ أَبُو رَافِعٍ : مَا لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لَسْتُ أُرِيدُكَ ، وَلَكِنْ أُرِيدُ صَاحِبَ هَذَا الْقَبْرِ ، سُئِلَ عَنِّي فَزَعَمَ أَنَّهُ لَا يَعْرِفُنِي " . فَإِذَا قَبْرٌ مَرْشُوشٌ عَلَيْهِ مَاءٌ حِينَ دُفِنَ صَاحِبُهُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بقیع غرقد سے گزر رہا تھا میں آپ کے پیچھے چل رہا تھا اسی دوران آپ نے ارشاد فرمایا : ” نہ تمہیں ہدایت نصیب ہوئی نہ تم نے ہدایت حاصل کی نہ تمہیں ہدایت نصیب ہوئی نہ تم نے ہدایت حاصل کی نہ تمہیں ہدایت نصیب ہوئی نہ تم نے ہدایت حاصل کی سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے کیا ہوا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں تمہیں مراد نہیں لے رہا بلکہ میں اس قبر والے شخص کو مراد لے رہا ہوں ، اس سے میرے بارے میں دریافت کیا گیا تو اس کا یہ کہنا تھا کہ یہ مجھ سے واقف نہیں ہے راوی کہتے ہیں : وہ ایک ایسی قبر تھی جس پر پانی چھٹرکا گیا تھا جو اس کے دفن کے بعد چھڑکا گیا تھا ( یعنی تازہ بنی ہوئی قبر تھی ) “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔