حدیث نمبر: 4272
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تُبْتَلَى هَذِهِ الْأُمَّةُ فِي قُبُورِهَا فَكَيْفَ بِي وَأَنَا امْرَأَةٌ ضَعِيفَةٌ ؟ قَالَ : ( يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ) . ¤ قُلْتُ : لَهَا حَدِيثٌ غَيْرُ هَذَا فِي الصَّحِيحِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس امت کو ان کی قبروں میں آزمائش میں مبتلاء کیا جائے گا ، تو میرے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے میں تو ایک کمزور عورت ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ” اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو ثابت قول پر ثابت قدم رکھے گا دنیاوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے ایک حدیث ” صحیح “ میں منقول ہے ، جو اس حدیث کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4272
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔