❮
❯
حدیث نمبر: 4271
وَعَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - أَحْسَبُهُ رَفَعَهُ - قَالَ : " " إِنَّ الْمُؤْمِنَ يَنْزِلُ بِهِ الْمَوْتُ وَيُعَايِنُ مَا يُعَايِنُ ، فَوَدَّ لَوْ خَرَجَتْ - يَعْنِي نَفْسَهُ - وَاللَّهُ يُحِبُّ لِقَاءَهُ ، فَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَصْعَدُ بِرُوحِهِ إِلَى السَّمَاءِ فَتَأْتِيهِ أَرْوَاحُ الْمُؤْمِنِينَ فَيَسْتَخْبِرُونَهُ عَنْ مَعَارِفِهِمْ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ ، فَإِذَا قَالَ : تَرَكْتُ فُلَانًا فِي الدُّنْيَا ; أَعْجَبَهُمْ ذَلِكَ ، وَإِذَا قَالَ : إِنَّ فُلَانًا قَدْ مَاتَ ، قَالُوا : مَا جِيءَ بِهِ إِلَيْنَا .
وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَجْلِسُ فِي قَبْرِهِ فَيُسْأَلُ : مَنْ رَبُّهُ ؟ فَيَقُولُ : رَبِّيَ اللَّهُ . فَيَقُولُ : مَنْ نَبِيُّكَ ؟ فَيَقُولُ : نَبِيِّي مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : فَمَا دِينُكَ ؟ قَالَ : دِينِي الْإِسْلَامُ . فَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ فِي قَبْرِهِ ، فَيَقُولُ - أَوْ يُقَالُ - : انْظُرْ إِلَى مَجْلِسِكَ . ثُمَّ يَرَى الْقَبْرَ فَكَأَنَّمَا كَانَتْ رَقْدَةً ، فَإِذَا كَانَ عَدُوَّ اللَّهِ نَزَلَ بِهِ الْمَوْتُ وَعَايَنَ مَا عَايَنَ ، فَإِنَّهُ لَا يُحِبُّ أَنْ تَخْرُجَ رُوحُهُ أَبَدًا ، وَاللَّهُ يُبَغِضُ لِقَاءَهُ ، فَإِذَا جَلَسَ فِي قَبْرِهِ أَوْ أُجْلِسَ يُقَالُ لَهُ : مَنْ رَبُّكَ ؟ فَيَقُولُ : لَا أَدْرِي . فَيُقَالُ : لَا دَرَيْتَ . فَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ مِنْ جَهَنَّمَ ثُمَّ يُضْرَبُ ضَرْبَةً تُسْمِعُ كُلَّ دَابَّةٍ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ . ثُمَّ يُقَالُ لَهُ : نَمْ كَمَا يَنَامُ الْمَنْهُوسُ " . - فَقُلْتُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ : مَا الْمَنْهُوسُ ؟ قَالَ : الَّذِي تَنْهَشُهُ الدَّوَابُّ وَالْجَنَادِبُ - " ثُمَّ يُضَيَّقُ عَلَيْهِ قَبْرُهُ " .
قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ خَلَا سَعِيدَ بْنَ بَحْرٍ الْقَرَاطِيسِيَّ ، فَإِنِّي لَمْ أَعْرِفْهُ .
محمد محی الدین

ابوحازم ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں ( راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے انہوں نے اسے ” مرفوع “ حدیث کے طور پر نقل کیا ہے ) : ” جب مومن پر موت نازل ہوتی ہے ، اور وہ دیکھتا ہے جو کچھ دیکھتا ہے ، تو وہ یہ چاہتا ہے کہ اس کی جان نکل جائے ، اور اللہ تعالیٰ اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے ، مومن کی روح کو آسمان کی طرف لے جایا جاتا ہے ، تو اہل ایمان کی روحیں اس کے پاس آتی ہیں اور اس سے زمین والوں میں سے اپنے جاننے والوں کے بارے میں دریافت کرتی ہیں ، جب وہ یہ کہتا ہے : میں فلاں کو دنیا میں چھوڑ کر آیا ہوں ، تو یہ بات انہیں اچھی لگتی ہے ، اور جب وہ یہ کہتا ہے : فلاں کا انتقال ہو چکا ہے ، تو وہ کہتی ہیں : اسے ہمارے پاس نہیں لایا گیا ۔ مومن اپنی قبر میں بیٹھ جاتا ہے ، اور اس سے دریافت کیا جاتا ہے : اس کا پروردگار کون ہے ؟ وہ کہتا ہے : میرا پروردگار اللہ ہے ، فرشتہ دریافت کرتا ہے : تمہارا نبی کون ہے ؟ وہ کہتا ہے : میرے نبی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ، فرشتہ دریافت کرتا ہے : تمہارا دین کیا ہے ؟ وہ کہتا ہے : میرا دین اسلام ہے ، تو اس کے لئے اس کی قبر میں ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے ، اور فرشتہ کہتا ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس سے کہا جاتا ہے : تم اپنے ٹھکانے کی طرف دیکھو ، پھر وہ قبر کو یوں دیکھتا ہے جیسے وہ صرف ایک نیند تھی ۔ اور جب اللہ کا دشمن ہو ، اس پر موت نازل ہو ، اور وہ دیکھے جو کچھ دیکھتا ہے ، تو وہ کبھی یہ پسند نہیں کرتا کہ اس کی روح نکلے ، اور اللہ تعالیٰ اس سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے ، جب وہ اپنی قبر میں بیٹھتا ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) اسے بٹھایا جاتا ہے ، تو اس سے کہا جاتا ہے : تمہارا پروردگار کون ہے ؟ وہ کہتا ہے : مجھے نہیں معلوم ، تو کہا جاتا ہے : تم نے سمجھ بوجھ حاصل نہیں کی ، پھر اس کے لئے جہنم کا ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے ، پھر اسے ایسی ضرب لگائی جاتی ہے جسے انسانوں اور جنات کے علاوہ ہر جاندار سنتا ہے ، پھر اس سے کہا جاتا ہے : تم اس طرح سو جاؤ جس طرح منہوس سوتا ہے “ ۔ ( ابوحازم کہتے ہیں : ) میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : منہوس سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : وہ شخص جسے کیڑے مکوڑے اور ٹڈیاں نوچتے ہیں ۔ ” پھر اس کی قبر اس پر تنگ کر دی جاتی ہے “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس روایت کا ایک حصہ ” صحیح “ میں منقول ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ سعید بن بحر قراطیسی کا معاملہ مختلف ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4271
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام البزار فى المسند (874)»