حدیث نمبر: 4270
وَلِأَبِي هُرَيْرَةَ فِي الْأَوْسَطِ أَيْضًا رَفَعَهُ قَالَ : " يُؤْتَى الرَّجُلُ فِي قَبْرِهِ ، فَإِذَا أُتِيَ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ دَفَعَتْهُ تِلَاوَةُ الْقُرْآنِ ، وَإِذَا أُتِيَ مِنْ قِبَلِ يَدَيْهِ دَفَعَتْهُ الصَّدَقَةُ ، وَإِذَا أُتِيَ مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ دَفَعَهُ مَشْيُهُ إِلَى الْمَسَاجِدِ ، وَالصَّبْرُ حَجْرَةً ، فَقَالَ : أَمَا إِنِّي لَوْ رَأَيْتُ خَلِيلًا كُنْتُ صَاحِبَهُ " . ¤ وَرَوَى الْبَزَّارُ طَرَفًا مِنْهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے معجم اوسط میں ایک روایت ” مرفوع “ حدیث کے طور پر منقول ہے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) ” آدمی کے پاس قبر میں ( فرشتہ ) آتا ہے ، وہ سرہانے کی طرف سے آنے کی کوشش کرتا ہے ، تو قرآن کی تلاوت اسے پرے کر دیتی ہے ، جب سامنے کی طرف سے آنے کی کوشش کرتا ہے ، تو صدقہ اسے پیچھے کر دیتا ہے ، جب پاؤں کی طرف سے آنے کی کوشش کرتا ہے ، تو مسجد کی طرف چل کر جانا اسے پیچھے کر دیتا ہے ، اور صبر رکاوٹ بن جاتا ہے وہ یہ کہتا ہے : اگر میں کوئی خلیل دیکھ لوں ، تو اس کا ساتھی بن جاؤں“ ۔ امام بزار نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4270
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف