مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابٌ إِلَى النَّارِ فَيَقُولُ : هَذَا كَانَ مَنْزِلَكَ لَوْ كَفَرْتَ بِرَبِّكَ ، فَأَمَّا إِذْ آمَنْتَ بِرَبِّكَ فَهَذَا مَنْزِلُكَ ، فَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى الْجَنَّةِ ، فَيُرِيدُ أَنْ يَنْهَضَ إِلَيْهِ فَيَقُولُ لَهُ : اسْكُنْ . وَيُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ . وَإِنْ كَانَ كَافِرًا أَوْ مُنَافِقًا يَقُولُ لَهُ : مَا تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ ؟ فَيَقُولُ : لَا أَدْرِي ، سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا . فَيَقُولُ : لَا دَرَيْتَ وَلَا تَلَيْتَ وَلَا اهْتَدَيْتَ . ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى الْجَنَّةِ فَيَقُولُ : هَذَا مَنْزِلُكَ لَوْ آمَنْتَ بِرَبِّكَ ، فَأَمَّا إِذْ كَفَرْتَ بِرَبِّكَ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَبْدَلَكَ هَذَا . وَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى النَّارِ ، ثُمَّ يَقْمَعُهُ مِقْمَعَةً بِالْمِطْرَاقِ يَسْمَعُهَا خَلْقُ اللَّهِ كُلُّهُمْ غَيْرَ الثَّقَلَيْنِ " . باب: قبر میں سوال ہونا
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ وَلَمَّا يُلْحَدُ ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ ، وَكَأَنَّ عَلَى رُءُوسِنَا الطَّيْرُ ، وَفِي يَدِهِ عُودٌ يَنْكُتُ بِهِ فِي الْأَرْضِ ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ : " اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ " . مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا . ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ الْعَبْدَ الْمُؤْمِنَ إِذَا كَانَ فِي انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْيَا وَإِقْبَالٍ مِنَ الْآخِرَةِ ، نَزَلَ إِلَيْهِ مَلَائِكَةٌ مِنَ السَّمَاءِ بِيضُ الْوُجُوهِ ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الشَّمْسُ ، مَعَهُمْ كَفَنٌ مِنْ أَكْفَانِ الْجَنَّةِ ، وَحَنُوطٌ مِنْ حَنُوطِ الْجَنَّةِ ، حَتَّى يَجْلِسُوا مِنْهُ مَدَّ الْبَصَرِ ، وَيَجِيءُ مَلَكُ الْمَوْتِ عَلَيْهِ السَّلَامُ حَتَّى يَجْلِسَ عِنْدَ رَأْسِهِ ، فَيَقُولُ : أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ، اخْرُجِي إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٍ . قَالَ : فَتَخْرُجُ فَتَسِيلُ كَمَا تَسِيلُ الْقَطْرَةُ فِي السِّقَاءِ ، فَيَأْخُذُهَا فَإِذَا أَخَذَهَا لَمْ يَدَعُوهَا فِي يَدِهِ طَرْفَةَ عَيْنٍ حَتَّى يَأْخُذُوهَا ، فَيَجْعَلُوهَا فِي ذَلِكَ الْكَفَنِ وَفِي ذَلِكَ الْحَنُوطِ ، وَيَخْرُجُ مِنْهَا كَأَطْيَبِ نَفْحَةِ مِسْكٍ وُجِدَتْ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ ، قَالَ : فَيَصْعَدُونَ بِهَا ، فَلَا يَمُرُّونَ [ يَعْنِي : بِهَا ] عَلَى مَلَإٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا قَالُوا : مَا هَذَا الرُّوحُ الطَّيِّبُ ؟ فَيَقُولُونَ : فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ - بِأَحْسَنِ أَسْمَائِهِ الَّتِي كَانُوا يُسَمُّونَهُ بِهَا فِي الدُّنْيَا - حَتَّى يَنْتَهُوا بِهَا إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَسْتَفْتِحُونَ لَهُمْ ، فَيُشَيِّعُهُ مِنْ كُلِّ سَمَاءٍ مُقَرَّبُوهَا إِلَى السَّمَاءِ الَّتِي تَلِيهَا ، حَتَّى يُنْتَهَى بِهَا إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ ، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : اكْتُبُوا كِتَابَ عَبْدِي فِي عِلِّيِّينَ ، وَأَعِيدُوهُ إِلَى الْأَرْضِ [ فَإِنِّي مِنْهَا خَلَقْتُهُمْ وَفِيهَا أُعِيدُهُمْ وَمِنْهَا أُخْرِجُهُمْ تَارَةً أُخْرَى . قَالَ : فَتُعَادُ رُوحُهُ ] فِي جَسَدِهِ ، فَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهِ فَيَقُولَانِ [ لَهُ ] : مَنْ رَبُّكَ ؟ فَيَقُولُ : رَبِّيَ اللَّهُ . فَيَقُولَانِ : مَا دِينُكَ ؟ فَيَقُولُ : دِينِيَ الْإِسْلَامُ . فَيَقُولَانِ لَهُ : مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ ؟ فَيَقُولُ : هُوَ رَسُولُ اللَّهِ . فَيَقُولَانِ لَهُ : مَا عَمَلُكَ ؟ فَيَقُولُ : قَرَأْتُ كِتَابَ اللَّهِ وَآمَنْتُ بِهِ وَصَدَّقْتُهُ . فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ : أَنْ صَدَقَ عَبْدِي فَأَفْرِشُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ ، وَأَلْبِسُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ ، وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى الْجَنَّةِ . قَالَ : فَيَأْتِيهِ مِنْ رُوحِهَا وَطِيبِهَا ، وَيُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ مَدَّ بَصَرِهِ . قَالَ : وَيَأْتِيهِ رَجُلٌ حَسَنُ الْوَجْهِ ، حَسَنُ الثِّيَابِ ، طَيِّبُ الرِّيحِ ، فَيَقُولُ : أَبْشِرْ بِالَّذِي يَسُرُّكَ ، هَذَا يَوْمُكَ الَّذِي كُنْتَ تُوعَدُ . فَيَقُولُ : مَنْ أَنْتَ فَوَجْهُكَ الْوَجْهُ يَجِيءُ بِالْخَيْرِ ؟ فَيَقُولُ : أَنَا عَمَلُكَ الصَّالِحُ . فَيَقُولُ : رَبِّ أَقِمِ السَّاعَةَ ، رَبِّ أَقِمِ السَّاعَةَ ; حَتَّى أَرْجِعَ إِلَى أَهْلِي وَمَالِي . ¤ وَإِنَّ الْعَبْدَ الْكَافِرَ إِذَا كَانَ فِي انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْيَا وَإِقْبَالٍ مِنَ الْآخِرَةِ نَزَلَ مَلَائِكَةٌ سُودُ الْوُجُوهِ ، مَعَهُمُ الْمُسُوحُ ، فَيَجْلِسُونَ مِنْهُ مَدَّ الْبَصَرِ ، ثُمَّ يَجِيءُ مَلَكُ الْمَوْتِ حَتَّى يَجْلِسَ عِنْدَ رَأْسِهِ ، فَيَقُولُ : أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْخَبِيثَةُ ، اخْرُجِي إِلَى سَخَطٍ مِنَ اللَّهِ وَغَضَبٍ . فَتُفَرَّقُ فِي جَسَدِهِ فَيَنْزِعُهَا كَمَا يَنْزِعُ السَّفُّودَ مِنَ الصُّوفِ الْمَبْلُولِ فَيَأْخُذُهَا ، فَإِذَا أَخَذَهَا لَمْ يَدَعُوهَا فِي يَدِهِ طَرْفَةَ عَيْنٍ حَتَّى يَجْعَلُوهَا فِي تِلْكَ الْمُسُوحِ ، وَيَخْرُجَ مِنْهَا كَأَنْتَنِ جِيفَةٍ وُجِدَتْ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ . فَيَصْعَدُونَ بِهَا فَلَا يَمُرُّونَ بِهَا عَلَى مَلَإٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا قَالُوا : مَا هَذِهِ الرِّيحُ الْخَبِيثَةُ ؟ فَيَقُولُونَ : فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ - بِأَقْبَحِ أَسْمَائِهِ الَّتِي كَانَ يُسَمَّى بِهَا فِي الدُّنْيَا - حَتَّى يُنْتَهَى بِهَا إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيُسْتَفْتَحُ لَهُ فَلَا يُفْتَحُ لَهُ " . ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تُفْتَحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ ، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : اكْتُبُوا كِتَابَهُ فِي سِجِّينٍ فِي الْأَرْضِ السُّفْلَى . ثُمَّ تُطْرَحُ رُوحُهُ طَرْحًا " . ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ( وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ ) فَيُعَادُ رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ ، وَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهِ فَيَقُولَانِ لَهُ : مَنْ رَبُّكَ ؟ فَيَقُولُ : هَاهْ هَاهْ ، لَا أَدْرِي . [ فَيَقُولَانِ لَهُ : مَا دِينُكَ ؟ فَيَقُولُ : هَاهْ هَاهْ ، لَا أَدْرِي ، فَيَقُولَانِ لَهُ : مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ ؟ فَيَقُولُ هَاهْ هَاهْ ، لَا أَدْرِي ] فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ : أَنْ كَذَبَ ، فَأَفْرِشُوهُ مِنَ النَّارِ ، وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى النَّارِ ، فَيَأْتِيهِ مِنْ حَرِّهَا وَسُمُومِهَا ، وَيُضَيَّقُ عَلَيْهِ قَبْرُهُ حَتَّى تَخْتَلِفَ فِيهِ أَضْلَاعُهُ ، وَيَأْتِيهِ رَجُلٌ قَبِيحُ الْوَجْهِ قَبِيحُ الثِّيَابِ ، مُنْتِنُ الرِّيحِ ، فَيَقُولُ : أَبْشِرْ بِالَّذِي يَسُوءُكَ هَذَا يَوْمُكَ الَّذِي كُنْتَ تُوعَدُ . فَيَقُولُ : مَنْ أَنْتَ ؟ فَوَجْهُكَ الَّذِي يَجِيءُ بِالشَّرِّ . فَيَقُولُ : أَنَا عَمَلُكَ الْخَبِيثُ . فَيَقُولُ : رَبِّ لَا تُقِمِ السَّاعَةَ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک انصاری شخص کے جنازے میں شریک ہوئے جب ہم قبر کے پاس پہنچے تو ابھی لحد تیار نہیں ہوئی تھی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے ، ہم آپ کے اردگرد بیٹھ گئے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ہمارے سروں پر پرندے موجود ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں ایک چھڑی تھی جس کے ذریعے آپ زمین کو کرید رہے تھے ۔ آپ نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور ارشاد فرمایا : قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو آپ نے یہ بات دو یا شاید تین مرتبہ ارشاد فرمائی پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ” مومن بندہ جب دنیا سے رخصت ہونے لگتا ہے ، اور آخرت کی طرف جانے لگتا ہے ، تو سفید چہروں کے مالک فرشتے آسمان سے نازل ہو کر اس کی طرف آتے ہیں ان کے چہرے سورج کی مانند ( روشن اور چمک دار ) ہوتے ہیں ان کے پاس جنت کا کفن ہوتا ہے ، جنت کی خوشبو ہوتی ہے ، اور وہ اس شخص کے پاس اتنی دور تک بیٹھ جاتے ہیں جہاں تک نگاہ کام کرتی ہے پھر ملک الموت علیہ السلام آتے ہیں اور اس شخص کے سرہانے بیٹھ جاتے ہیں اور یہ کہتے ہیں : اے مطمئن جان تم نکل کر اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رضا مندی کی طرف جاؤ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تو وہ جان یوں نکلتی ہے ، ، جس طرح مشکیزے میں سے کوئی قطرہ ٹپکتا ہے ملک الموت اسے پکڑ لیتے ہیں جب اسے پکڑ لیتے ہیں تو پلک جھپکنے کے عرصے کے لئے بھی اسے نہیں چھوڑتے یہاں تک کہ وہ اسے پکڑ کر اسے اس کفن میں رکھ دیتے ہیں اور اس خوشبو کو لگا دیتے ہیں وہ اس جسم میں سے یوں نکلتی ہے ، جس طرح روئے زمین پر موجود مشک کی سب سے عمدہ خوشبو ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں فرشتے اس جان کو لے کر اوپر جاتے ہیں وہ فرشتے اس روح کو لے کر فرشتوں کے جس بھی گروہ کے پاس سے گزرتے ہیں تو وہ فرشتے یہ کہتے ہیں : یہ کس کی پاکیزہ روح ہے ، تو وہ فرشتے یہ جواب دیتے ہیں کہ یہ فلاں بن فلاں ہے وہ اس شخص کا سب سے اچھا نام لیتے ہیں دنیا میں جس سب سے اچھے نام کے ذریعے اسے بلایا جاتا تھا یہاں تک کہ وہ فرشتے اسے لے کے آسمان دنیا تک پہنچ جاتے ہیں وہ دروازہ کھولنے کے لئے کہتے ہیں : پھر ہر آسمان سے مقرب فرشتے اگلے آسمان تک اس روح کے ساتھ جاتے ہیں یہاں تک کہ اسے ساتویں آسمان تک پہنچا دیا جاتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے میرے بندے کی تحریر کو علیین میں نوٹ کر لو اور اسے زمین کی طرف لوٹا دو کیونکہ ہم نے اس سے انہیں پیدا کیا ہے ، اور اسی میں ہم انہیں لوٹا دیں گے اور اس میں سے ہی ہم انہیں دوبارہ نکالیں گے تو اس شخص کی روح کو اس شخص کے جسم کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے پھر دو فرشتے اس کے پاس آتے ہیں وہ اسے بٹھاتے ہیں اور اس سے دریافت کرتے ہیں تمہارا پروردگار کون ہے وہ جواب دیتا ہے میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے دونوں فرشتے دریافت کرتے ہیں تمہارا دین کیا ہے وہ جواب دیتا ہے میرا دین اسلام ہے دونوں فرشتے اس سے دریافت کرتے ہیں وہ صاحب کون ہیں ، جو تمہارے درمیان مبعوث ہوئے تھے وہ جواب دیتا ہے وہ اللہ کے رسول ہیں تو دونوں فرشتے اس سے یہ کہتے ہیں : تمہارا عمل کیا ہے وہ جواب دیتا ہے میں نے اللہ کی کتاب کو پڑھا اس پر ایمان لایا اور اس کی تصدیق کی ، تو آسمان سے ایک منادی پکار کر یہ کہتا ہے کہ میرے بندے نے سچ کہا: ہے تم اس کے لئے جنت کا بچھونا بچھا دو اسے جنت کا لباس پہنا دو اس کے لئے جنت کی طرف دروازہ کھول دو تو جنت کی ٹھنڈک اور خوشبو اس شخص کی طرف آتی ہے ، اور اس شخص کی قبر کو حد نگاہ تک وسیع کر دیا جاتا ہے پھر ایک شخص اس کے پاس آتا ہے ، جس کا چہرہ خوبصورت ہوتا ہے لباس شاندار ہوتا ہے خوشبو پاکیزہ ہوتی ہے وہ یہ کہتا ہے تم اس چیز کی خوشخبری حاصل کرو جو تمہیں خوش کر دے گی یہ وہ دن ہے ، جس کا تمہارے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا وہ بندہ کہتا ہے تم کون ہو تمہارا چہرہ بہت خوبصورت ہے ، اور تم بھلائی لے کے آئے ہو ، تو وہ دوسرا شخص کہتا ہے میں تمہارا نیک عمل ہوں تو وہ بندہ کہتا ہے اے میرے پروردگار ! قیامت قائم کر دے اے میرے پروردگار ! قیامت قائم کر دے تاکہ میں اپنے اہل خانہ اور اپنے مال کی طرف لوٹ جاؤں ۔ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) جب کافر شخص کا دنیا سے رخصت ہونے اور آخرت کی طرف جانے کا وقت آتا ہے ، تو سیاہ چہروں کے مالک فرشتے نازل ہوتے ہیں ان کے ساتھ کھردرے کپڑے ہوتے ہیں وہ حد نگاہ تک اس کے پاس بیٹھ جاتے ہیں پھر ملک الموت آتے ہیں اور اس کے سرہانے بیٹھ جاتے ہیں اور وہ کہتے ہیں : اے خبیث روح تم نکل کر پروردگار کی ناراضگی ، اور غضب کی طرف جاؤ تو وہ روح اس شخص کے جسم میں پھیل جاتی ہے ، تو ملک الموت یوں اسے الگ کرتا ہے ، جس طرح تر روئی میں سے کانٹا الگ کیا جاتا ہے ، جب ملک الموت اسے پکڑ لیتا ہے ، تو اسے پلک جھپکنے کے عرصے کے لئے بھی نہیں چھوڑتا ہے اسے فورا اس کھردرے کپڑے میں ڈال دیتا ہے وہ روح اس جسم سے یوں نکلتی ہے کہ جیسے انتہائی بدبودار مردار ہو جو زمین پر پایا گیا ہو فرشتے اسے لے کر اوپر کی طرف جاتے ہیں وہ فرشتوں کے جس بھی گروہ کے پاس سے گزرتے ہیں تو وہ فرشتے دریافت کرتے ہیں یہ خبیث بدبو کس چیز کی ہے وہ جواب دیتے ہیں فلاں بن فلاں کی ہے وہ اس کے سب سے برے نام کے ذریعے ذکر کرتے ہیں جو دنیا میں اس کا لیا جاتا تھا یہاں تک کہ وہ اسے لے کر آسمان دنیا کے پاس پہنچتے ہیں اس کے لئے دروازہ کھولنے کا کہا: جاتا ہے ، تو دروازہ نہیں کھلتا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ” ان لوگوں کے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے اور وہ جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہوں گے جب تک اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل نہیں ہوتا “ ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : تم اس کی تحریر کو سجین میں سب سے نیچے والی زمین نوٹ کر لو پھر اس کی روح کو پھینک دیا جاتا ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ” اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتا ہے ، تو اس کی مثال یوں ہے جیسے وہ آسمان سے گرا ہو ، اور پرندوں نے اسے اُچک لیا ہو ، یا ہواؤں نے اُڑا کر دور دراز کے مقام پر پہنچا دیا “ ۔ پھر اس شخص کی روح کو اس کے جسم میں لوٹا دیا جاتا ہے ، پھر دو فرشتے اس کے پاس آتے ہیں وہ دونوں اسے بٹھاتے ہیں اور اس سے دریافت کرتے ہیں تمہارا پروردگار کون ہے وہ جواب دیتا ہے ہائے ہائے میں نہیں جانتا ہے دونوں فرشتے اس سے دریافت کرتے ہیں تمہارا دین کیا ہے وہ جواب دیتا ہے ہائے ہائے میں نہیں جانتا دونوں فرشتے اس سے دریافت کرتے ہیں یہ صاحب کون ہیں ، جو تمہارے درمیان مبعوث ہوئے تھے وہ جواب دیتا ہے ہائے ہائے میں نہیں جانتا ، تو آسمان سے ایک منادی پکار کر یہ کہتا ہے اس نے جھوٹ بولا: ہے اس کے لئے جہنم کا بچھونا بچھا دو اس کے لئے جہنم کی طرف دروازہ کھول دو تاکہ اس کی تپش اور اس کی گرمی اس کی طرف آئے اس شخص کی قبر اس کے لئے تنگ ہو جاتی ہے یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں پیوست ہو جاتی ہیں پھر ایک شخص اس کے پاس آتا ہے ، جس کا چہرہ انتہائی قبیح ہوتا ہے ، اور لباس قبیح ہوتا ہے ، اور بو بدبودار ہوتی ہے وہ یہ کہتا ہے تم اس بات کی اطلاع قبول کرو جو تمہیں بری لگے گی یہ وہ دن ہے ، جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا وہ مردہ دریافت کرتا ہے تم کون ہو ؟ تم ایک برائی لے کے آئے ہو ، تو وہ جواب دیتا ہے میں تمہارا خبیث عمل ہوں تو مردہ کہتا ہے : اے میرے پروردگار ! تو قیامت قائم نہ کرنا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ اور دیگر کتابوں میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔