مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي ضَغْطَةِ الْقَبْرِ . باب: قبر کا بھینچنا
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : تُوُفِّيَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجْنَا مَعَهُ ، فَرَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهْتَمًّا شَدِيدَ الْحُزْنِ ، فَجَعَلْنَا لَا نُكَلِّمُهُ حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ ، فَإِذَا هُوَ لَمْ يَفْرَغْ مِنْ لَحْدِهِ ، فَقَعَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَعَدْنَا حَوْلَهُ ، فَحَدَّثَ نَفْسَهُ هُنَيْهَةً ، وَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ ، ثُمَّ فَرَغَ مِنَ الْقَبْرِ ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ فَرَأَيْتُهُ يَزْدَادُ حُزْنُهُ ، ثُمَّ إِنَّهُ فَرَغَ فَخَرَجَ ، فَرَأَيْتُهُ سُرِّيَ عَنْهُ وَتَبَسَّمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَأَيْنَاكَ مُهْتَمًّا حَزِينًا فَلَمْ نَسْتَطِعْ أَنْ نُكَلِّمَكَ ، ثُمَّ رَأَيْنَاكَ سُرِّيَ عَنْكَ فَلِمَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " كُنْتُ أَذْكُرُ ضِيقَ الْقَبْرِ ، وَغَمَّهُ وَضَعْفَ زَيْنَبَ ، فَكَانَ ذَلِكَ يَشُقُّ عَلَيَّ ، فَدَعَوْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُخَفِّفَ عَنْهَا فَفَعَلَ ، وَلَقَدْ ضَغَطَهَا ضَغْطَةً سَمِعَهَا مَنْ بَيْنِ الْخَافِقَيْنِ إِلَّا الْجِنَّ وَالْإِنْسَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ انتہائی غمگین تھے ہم نے آپ کے ساتھ کوئی بات نہیں کی یہاں تک کہ آپ قبر کے پاس تشریف لے آئے ، تو ابھی وہاں لحد تیار نہیں ہوئی تھی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے ، ہم بھی آپ کے اردگرد بیٹھ گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر اپنی سوچ میں رہے پھر آپ آسمان کی طرف دیکھنے لگے جب قبر تیار ہو گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبر میں اترے میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ کے غم میں اضافہ ہو گیا تھا پھر جب آپ فارغ ہوئے اور اس سے باہر آئے تو میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ کی پریشانی ختم ہو گئی اور آپ مسکرا رہے تھے ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پہلے ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ پریشان اور غمگین تھے ہم آپ کے ساتھ بات نہیں کر سکے پھر ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ کی یہ کیفیت ختم ہو گئی اس کی وجہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں قبر کی تنگی ، اور اس کے غم کو اور زینب کی کمزوری کے بارے میں سوچ رہا تھا ، تو یہ چیز مجھ پر گراں گزر رہی تھی پھر میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ زینب کو تخفیف عطا کرے تو اللہ تعالی نے ایسا کیا البتہ قبر نے اسے ایک مرتبہ بھینچا اور اس کی آواز کو زمین و آسمان کے درمیان ہر چیز نے سنا صرف جنات اور انسانوں نے نہیں سنا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند ضعیف ہے ۔