مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي الْمُنَافِقِينَ . باب: منافقین کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : مَرَّ رَسُولُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيِّ ابْنِ سَلُولَ وَهُوَ فِي ظِلٍّ ، فَقَالَ : قَدْ غَبَّرَ عَلَيْنَا ابْنُ أَبِي كَبْشَةَ ، فَقَالَ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ : وَالَّذِي أَكْرَمَكَ وَأَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ ، لَئِنْ شِئْتَ لَأَتَيْتُكَ بِرَأْسِهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا ، وَلَكِنْ بِرَّ أَبَاكَ وَأَحْسِنْ صُحْبَتَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَقَالَ : تَفَرَّدَ بِهِ زَيْدُ بْنُ بِشْرٍ الْحَضْرَمِيُّ . قُلْتُ : وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ( رئیس المنافقین ) عبداللہ بن ابی بن سلول کے پاس سے ہوا ، جو سائے میں موجود تھا ، اُس نے کہا: اے ابوکبشہ کے صاحبزادے ! آپ نے ہم پر غبار ڈال دیا ہے ( بعد میں ) اس کے بیٹے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ( جو صحابی رسول ہیں ، ) انہوں نے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ) کہا: اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو عزت عطا کی ہے اور آپ پر کتاب نازل کی ہے ، اگر آپ چاہیں ، تو میں آپ کے پاس اُس کا ( یعنی اپنے باپ عبداللہ بن ابی بن سلول کا ) سر لے آتا ہوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! تم اپنے باپ کے ساتھ نیکی کرو ! اور اُس کے ساتھ اچھے طریقے سے رہو ! ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : زید بن بشر حضرمی اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔