مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى الْقَبْرِ . باب: قبر پر نماز جنازہ ادا کرنا
وَعَنْ حُصَيْنِ بْنِ وَحْوَحٍ أَنَّ طَلْحَةَ بْنَ الْبَرَاءِ ، لَمَّا لَقِيَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مُرْنِي بِأَمْرِكَ وَلَا أَعْصِي لَكَ أَمْرًا ، قَالَ : فَعَجِبَ لِذَلِكَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ غُلَامٌ ، فَقَالَ لَهُ عِنْدَ ذَلِكَ : " اذْهَبْ فَاقْتُلْ أَبَاكَ " ، قَالَ : فَذَهَبَ مُوَلِّيًا يَفْعَلُ ، فَدَعَاهُ فَقَالَ : " أَقْبِلْ ; فَإِنِّي لَمْ أُبْعَثْ بِقَطِيعَةِ الرَّحِمِ " ، فَمَرِضَ طَلْحَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعُودُهُ فِي الشِّتَاءِ فِي بَرْدٍ وَغَيْمٍ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ لِأَهْلِهِ : " إِنِّي لَا أَرَى طَلْحَةَ إِلَّا حَدَثَ فِيهِ الْمَوْتُ ، فَآذِنُونِي بِهِ حَتَّى أَشْهَدَهُ وَأُصَلِّيَ عَلَيْهِ ، وَعَجِّلُوا " ، فَلَمْ يَبْلُغِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَنِي سَالِمِ بْنِ عَوْفٍ حَتَّى تُوُفِّيَ ، وَجَنَّ عَلَيْهِ اللَّيْلُ ، فَكَانَ مِمَّا قَالَ طَلْحَةُ : ادْفِنُونِي وَأَلْحِقُونِي بِرَبِّي عَزَّ وَجَلَّ ، وَلَا تَدْعُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِنِّي أَخَافُ الْيَهُودَ أَنْ تَصَّافَّ فِي سُنَّتِي ، وَأُخْبِرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ أَصْبَحَ ، فَجَاءَ حَتَّى وَقَفَ عَلَى قَبْرِهِ وَصَفَّ النَّاسَ مَعَهُ [ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ ] فَقَالَ : " اللَّهُمَّ الْقَ طَلْحَةَ تَضْحَكُ إِلَيْهِ وَيَضْحَكُ إِلَيْكَ " . ¤ قُلْتُ : عَزَا صَاحِبُ الْأَطْرَافِ بَعْضَ هَذَا إِلَى أَبِي دَاوُدَ وَلَمْ أَرَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤حصین بن وحوح بیان کرتے ہیں : سیدنا طلحہ بن براء رضی اللہ عنہ کی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کوئی حکم دیجیے میں آپ کے حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پسند آئی کیونکہ وہ لڑکے تھے اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم جاؤ اور اپنے باپ کو قتل کر دو وہ ایسا کرنے کے لئے مڑ گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلوایا اور فرمایا : آؤ ! مجھے اس لئے مبعوث نہیں کیا گیا کہ رشتے داری کے حقوق کو پامال کروں اس کے بعد طلحہ نامی وہ صاحبزادے بیمار ہو گئے سردی اور بارش والے دن شام کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کرنے کے لئے تشریف لائے جب آپ واپس جانے لگے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اہل خانہ سے فرمایا میں دیکھ رہا ہوں کہ طلحہ مرنے کے قریب ہے ، جب یہ فوت ہو جائے تو تم مجھے اس بارے میں بتا دینا تاکہ میں اس کے جنازے میں شریک ہوؤں اور اس کی نماز جنازہ پڑھاؤں ابھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنو سالم بن عوف کے محلے تک نہیں پہنچے تھے کہ ان کا انتقال ہو گیا رات تاریک ہو چکی تھی طلحہ نے یہ کہا: تم لوگ مجھے دفن کر دینا اور مجھے میرے پروردگار کے سپرد کر دینا تم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ بلانا کیونکہ مجھے یہودیوں کے حوالے سے یہ اندیشہ ہے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی نقصان پہنچا سکتے ہیں اگلے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع دی گئی تو آپ تشریف لائے یہاں تک کہ آپ ان کی قبر کے پاس آ کے ٹھہرے لوگوں نے آپ کے پیچھے صف بنا لی پھر آپ نے دونوں ہاتھ بلند کر کے یہ دعا کی : ” اے اللہ ! تو طلحہ سے ایسے عالم میں ملنا کہ وہ تجھے دیکھ کے ہنس رہا ہو ، اور تو اسے دیکھ کے ہنس رہا ہو “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” اطراف “ کے مصنف نے اس روایت کے کچھ حصے کی نسبت امام ابوداؤد کی طرف کی ہے ، اور میں نے اس کتاب میں
یہ روایت نہیں دیکھی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔