مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى الْقَبْرِ . باب: قبر پر نماز جنازہ ادا کرنا
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعُودُ فُقَرَاءَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ، وَيَشْهَدُ جَنَائِزَهُمْ إِذَا مَاتُوا ، فَتُوُفِّيَتِ امْرَأَةٌ مَنْ أَهْلِ الْعَوَالِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا حَضَرَتْ فَآذِنُونِي " ، فَأَتَوْهُ لِيُؤْذِنُوهُ ، فَوَجَدُوهُ نَائِمًا وَقَدْ ذَهَبَ مِنَ اللَّيْلِ ، فَكَرِهُوا أَنْ يُوقِظُوهُ ، وَتَخَوَّفُوا عَلَيْهِ ظُلْمَةَ اللَّيْلِ وَهَوَامَّ الْأَرْضِ ، فَذَهَبُوا بِهَا ، فَلَمَّا أَصْبَحَ سَأَلَ عَنْهَا قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَيْنَاكَ لِنُؤْذِنَكَ فَوَجَدْنَاكَ نَائِمًا ، فَكَرِهْنَا أَنْ نُوقِظَكَ ، وَتَخَوَّفْنَا عَلَيْكَ ظُلْمَةَ اللَّيْلِ وَهَوَامَّ الْأَرْضِ ، فَمَشَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى قَبْرِهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا وَكَبَّرَ أَرْبَعًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے غریبوں کی عیادت کیا کرتے تھے ، اور جب وہ لوگ فوت ہو جاتے تھے تو ان کے جنازے میں شریک ہوا کرتے تھے نواحی علاقے کے رہنے والوں میں سے ایک خاتون انتقال کر گئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب وہ حاضر ہو جائے ( یعنی میت کی تکفین مکمل ہو جائے ) تو مجھے اس کے بارے میں اطلاع دے دینا وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ آپ کو اس بارے میں اطلاع دیں ، تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا کہ آپ سو رہے تھے رات کا ایک حصہ گزر چکا تھا لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیدار کرنا مناسب نہیں سمجھا لوگوں کو رات کی تاریکی اور زمین کے حشرات الارض کے حوالے سے بھی اندیشہ تھا وہ اس عورت کی میت لے گئے اگلے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے بارے میں دریافت کیا ، تو لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم آپ کو اطلاع دینے کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے ، لیکن ہم نے آپ کو پایا کہ آپ سو رہے تھے تو ہمیں یہ اچھا نہیں لگا کہ آپ کو بیدار کریں ہمیں آپ کے حوالے سے رات کی تاریکی اور زمین کے حشرات الارض کا بھی اندیشہ تھا راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیدل چل کر اس خاتون کی قبر کی طرف تشریف لے گئے آپ نے اس کی نماز جنازہ ادا کی اور آپ نے چار تکبیریں کہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی سفیان بن حسین ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ایک جماعت نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے اس کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔