حدیث نمبر: 4169
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ دَعَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى عُمَيْرِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ حِينَ تُوُفِّيَ ، فَأَتَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّى عَلَيْهِ فِي مَنْزِلِهِ ، فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ وَرَاءَهُ ، وَأُمُّ سُلَيْمٍ وَرَاءَ أَبِي طَلْحَةَ ، لَمْ يَكُنْ مَعَهُمْ غَيْرُهُمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

عبداللہ بن ابوطلحہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عمیر بن ابوطلحہ کے انتقال پر ان کی نماز جنازہ کے لئے بلایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے ہاں تشریف لائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے گھر میں اس بچے کی نماز جنازہ پڑھائی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے ہو گئے سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے تھے سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے تھیں اور ان کے ساتھ ان کے علاوہ کوئی اور نہیں تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4169
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح