مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى الْجِنَازَةِ . باب: نماز جنازہ ادا کرنا
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أُتِيَ بِجِنَازَةِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ - أَوْ قَالَ : سَهْلِ بْنِ عَتِيكٍ - وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ صُلِّيَ عَلَيْهِ فِي مَوْضِعِ الْجَنَائِزِ ، فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَبَّرَ فَقَرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَجَهَرَ بِهَا ثُمَّ كَبَّرَ الثَّانِيَةَ ثُمَّ كَبَّرَ الثَّالِثَةَ فَدَعَا لِلْمَيِّتِ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ " ، ثُمَّ كَبَّرَ الرَّابِعَةَ ، فَدَعَا لِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ، ثُمَّ سَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) سیدنا سہل بن عتیک رضی اللہ عنہ کا جنازہ لایا گیا یہ وہ پہلے فرد ہیں جن کی نماز جنازہ ، جنازگاہ میں ادا کی گئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے آپ نے تکبیر پڑھی پھر آپ نے سورت فاتحہ پڑھی اور اسے بلند آواز میں پڑھا پھر آپ نے دوسری تکبیر کہی پھر آپ نے تیسری تکبیر کہی آپ نے میت کے لئے دعا کرتے ہوئے یہ کہا: ” اے اللہ ! تو اس کی مغفرت کر دے تو اس پر رحم کر تو اس کے درجہ کو بلند کر دے “ ۔ پھر آپ نے چوتھی تکبیر کہی پھر آپ نے مومن مردوں اور مومن خواتین کے لئے دعا کی اور پھر سلام پھیر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عبدالملک نوفلی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔