حدیث نمبر: 415
وَعَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ قَالَ : دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِنْ خِلَالِ الْمُنَافِقِ : إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ " ، فَخَرَجَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُمَا ثَقِيلَانِ ، فَلَقِيتُهُمَا فَقُلْتُ : مَالِي أَرَاكُمَا ثَقِيلَيْنِ ؟ فَقَالَا : حَدِيثًا سَمِعْنَاهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مِنْ خِلَالِ الْمُنَافِقِ : إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ " . قَالَ : أَوَلَا سَأَلْتُمَاهُ ؟ قَالَا : هِبْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قَالَ : لَكِنِّي سَأَسْأَلُهُ ، فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : لَقِيَنِي أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - وَهُمَا ثَقِيلَانِ ، وَذَكَرْتُ مَا قَالَا ، فَقَالَ : " قَدْ حَدَّثْتُهُمَا وَلَمْ أَضَعْهُ عَلَى الْمَوْضِعِ الَّذِي يَضَعَانِهِ ، وَلَكِنَّ الْمُنَافِقَ إِذَا حَدَّثَ بِحَدِيثٍ وَهُوَ يُحَدِّثُ نَفْسَهُ أَنَّهُ يَكْذِبُ ، وَإِذَا وَعَدَ وَهُوَ يُحَدِّثُ نَفْسَهُ أَنَّهُ يُخْلِفُ ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ وَهُوَ يُحَدِّثُ نَفْسَهُ أَنَّهُ يَخُونُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو النُّعْمَانِ عَنْ أَبِي وَقَّاصٍ ، وَكِلَاهُمَا مَجْهُولٌ - قَالَهُ التِّرْمِذِيُّ - وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” منافق کی عادات میں یہ بات شامل ہے کہ جب وہ بولے : ، تو غلط بیانی کرتا ہے ، جب وعدہ کرے ، تو اس کے خلاف کرتا ہے ، اور جب اُسے امین بنایا جائے ، تو خیانت کرتا ہے “ ۔ یہ دونوں حضرات ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اٹھے ، تو دونوں پریشان تھے ، میری اُن دونوں حضرات سے ملاقات ہوئی ، تو میں نے دریافت کیا : کیا وجہ ہے ؟ میں آپ دونوں کو پریشان دیکھ رہا ہوں ، اُنہوں نے بتایا : اس کی وجہ وہ حدیث ہے ، جو ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے ، آپ نے ارشاد فرمایا ہے : ” منافق کی عادات میں یہ بات شامل ہے کہ جب وہ بولے : ، تو غلط بیانی کرتا ہے ، جب وعدہ کرے ، تو اُس کے خلاف کرتا ہے ، اور جب اُسے امین بنایا جائے ، تو خیانت کرتا ہے “ ۔ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ دونوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال نہیں کیا ؟ ان دونوں حضرات نے جواب دیا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیبت کی وجہ سے ( ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال نہیں کیا ) تو سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کروں گا ، سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پھر میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور میں نے عرض کی : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی مجھ سے ملاقات ہوئی ، وہ دونوں پریشان تھے ، پھر میں نے اُن دونوں حضرات کی بات کا ذکر کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نے اُن دونوں سے یہ بات بیان کی تھی ، لیکن میں نے اُس کا وہ مفہوم مراد نہیں لیا تھا ، جو ان دونوں نے مراد لیا ہے ، اس سے مراد یہ ہے کہ منافق شخص ، جب کوئی بات کرتا ہے ، تو وہ دل میں یہ سوچ رہا ہوتا ہے کہ وہ جھوٹ بولے : گا اور جب وہ کوئی وعدہ کرتا ہے ، تو وہ دل میں یہ سوچ رہا ہوتا ہے کہ وہ اس کی خلاف ورزی کرے گا ، اور جب اُسے امین بنایا جاتا ہے ، تو وہ دل میں یہ سوچ رہا ہوتا ہے کہ وہ خیانت کرے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے ابونعمان نے ابووقاص سے روایت کیا ہے اور یہ دونوں راوی مجہول ہیں ، یہ بات امام ترمذی نے نقل کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 415
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف