مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ اتِّبَاعِ النِّسَاءِ الْجَنَائِزَ . باب: خواتین کا جنازے کے ساتھ جانا
وَعَنِ الْمُفَضَّلِ بْنِ فَضَالَةَ قَالَ : سَأَلَتُ رَبِيعَةَ الْمَعَافِرَيَّ عَنِ الْكُدَى فَقَالَ : أَحْسَبُهَا الْمَقَابِرَ ، قَالَ : فَلَمَّا رَأَيْتُ رَبِيعَةَ شَكَّ لَقِيتُ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ ، قَالَ يَزِيدُ بْنُ حَبِيبٍ : وَحَضَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جِنَازَةَ رَجُلٍ ، فَلَمَّا وُضِعَتْ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا أَبْصَرَ امْرَأَةً فَسَأَلَ عَنْهَا فَقِيلَ : هِيَ أُخْتُ الْمَيِّتِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ لَهَا : " ارْجِعِي " ، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهَا حَتَّى تَوَارَتْ . قَالَ يَزِيدُ : وَقَدْ حَضَرَتْ أُمُّ سَلَمَةَ أَبَا سَلَمَةَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي آخِرِ حَدِيثٍ ذَكَرَهُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَلَكِنَّهُ مُنْقَطِعُ الْإِسْنَادِ . ¤مفضل بن فضالہ بیان کرتے ہیں : میں نے ربیعہ معافری سے ” کدی “ کے بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے فرمایا : میرا خیال ہے وہاں قبرستان تھا راوی کہتے ہیں : جب میں نے ربیعہ کو دیکھا کہ وہ اس بارے میں شک کا شکار ہے تو میری ملاقات یزید بن ابوحبیب سے ہوئی یزید بن حبیب نے یہ بات بیان کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے جنازے میں موجود تھے ، جب اسے رکھا گیا تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ ادا کریں تو آپ نے ایک خاتون کو ملاحظہ فرمایا آپ نے اس عورت کے بارے میں دریافت کیا ، تو عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! یہ مرحوم کی بہن ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے فرمایا تم واپس چلی جاؤ آپ نے اس وقت تک نماز جنازہ شروع نہیں کی جب تک وہ عورت اوجھل نہیں ہو گئی ۔ یزید نامی راوی بیان کرتے ہیں : سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کے جنازے میں شریک ہوئی تھیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے ایک حدیث کے آخر میں نقل کی ہے ، جس کو انہوں نے ذکر کیا ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں تاہم اس کی سند منقطع ہے ۔