مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابُ لَا يُكَفَّرُ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ بِذَنْبٍ . باب: کسی گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے اہل قبلہ میں سے کسی کی تکفیر نہیں کی جائے گی
وَعَنْ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا وَهُوَ مُجَاوِرٌ بِمَكَّةَ ، وَهُوَ نَازِلٌ فِي بَنِي فِهْرٍ ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ : هَلْ كُنْتُمْ تَدْعُونَ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ مُشْرِكًا ؟ قَالَ : مَعَاذَ اللَّهِ ، فَفَزِعَ لِذَلِكَ . قَالَ : هَلْ كُنْتُمْ تَدْعُونَ أَحَدًا مِنْهُمْ كَافِرًا ؟ قَالَ : لَا . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ابوسفیان بیان کرتے ہیں : میں نے ، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا : جو اُس وقت مکہ میں ٹھہرے ہوئے تھے ، اُنہوں نے بنو فہر کے ہاں پڑاؤ کیا ہوا تھا ، ایک شخص نے اُن سے سوال کیا : کیا آپ لوگ یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ، اہل قبلہ میں سے کسی شخص کو مشرک قرار دیتے تھے ؟ تو اُنہوں نے جواب دیا : اس بات سے اللہ کی پناہ ہے ، وہ ( یعنی سیدنا جابر رضی اللہ عنہ ) اس بات سے خوف زدہ ہو گئے ، اُس شخص نے دریافت کیا : کیا آپ لوگ ( یعنی صحابہ کرام ) ان ( یعنی اہل قبلہ ) میں سے ، کسی کو کافر قرار دیتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔