مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ تَجْهِيزِ الْمَيِّتِ ، وَغُسْلِهِ ، وَالْإِسْرَاعِ بِذَلِكَ . باب: میت کو تیار کرنا اسے غسل دینا اور یہ کام جلدی کرنا
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَفَرَ قَبْرًا بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ ، وَمَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ ، وَمَنْ كَفَّنَ مَيِّتًا كَسَاهُ اللَّهُ مِنْ حُلَلِ الْجَنَّةِ ، وَمَنْ عَزَّى حَزِينًا أَلْبَسَهُ اللَّهُ التَّقْوَى ، وَصَلَّى عَلَى رُوحِهِ فِي الْأَرْوَاحِ ، وَمَنْ عَزَّى مُصَابًا كَسَاهُ اللَّهُ حُلَّتَيْنِ مَنْ حُلَلِ الْجَنَّةِ لَا تَقُومُ لَهُمَا الدُّنْيَا ، وَمَنِ اتَّبَعَ جِنَازَةً حَتَّى يُقْضَى دَفْنُهَا كُتِبَ لَهُ ثَلَاثَةُ قَرَارِيطَ ، الْقِيرَاطُ مِنْهَا أَعْظَمُ مِنْ جَبَلِ أُحُدٍ ، وَمَنْ كَفَلَ يَتِيمًا أَوْ أَرْمَلَةً أَظَلَّهُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ وَأَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْخَلِيلُ بْنُ مُرَّةَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص قبر کھودتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں گھر بنا دے گا ، جو شخص میت کو غسل دیتا ہے وہ اپنے گناہوں سے یوں نکل جاتا ہے جیسے اس دن تھا جب اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا جو شخص میت کو کفن دیتا ہے اللہ تعالیٰ اسے جنت کا حلہ پہنائے گا ، اور جو شخص غمگین شخص کے ساتھ تعزیت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے تقویٰ کا لباس پہنائے گا ، اور تمام ارواح میں سے اس کی روح پر رحمت نازل کرے گا ، اور جو شخص کسی مصیبت زدہ کے ساتھ تعزیت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے جنت کے حلوں میں سے دو حلے پہنائے گا کہ پوری دنیا بھی اس کی قیمت نہیں ہو سکتی جو شخص جنازے کے ساتھ جاتا ہے یہاں تک کہ اس کو دفن کر دیا جائے اس شخص کے لئے تین قیراط نوٹ کیے جاتے ہیں جن میں سے ایک قیراط احد پہاڑ سے زیادہ بڑا ہوتا ہے ، جو شخص یتیم کی یا بیوہ عورت کی کفالت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اپنا سایہ فراہم کرے گا ، اور اسے جنت میں داخل کرے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خلیل بن مرہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔