مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ تَجْهِيزِ الْمَيِّتِ ، وَغُسْلِهِ ، وَالْإِسْرَاعِ بِذَلِكَ . باب: میت کو تیار کرنا اسے غسل دینا اور یہ کام جلدی کرنا
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : إِنَّ أَبَا بَكْرٍ لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ : أَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟ قَالُوا : يَوْمُ الِاثْنَيْنِ ، قَالَ : فَإِنْ مِتُّ مِنْ لَيْلَتِي فَلَا تَنْتَظِرُوا بِيَ الْغَدَ ، فَإِنَّ أَحَبَّ الْأَيَّامِ وَاللَّيَالِي إِلَيَّ أَقْرَبُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ : شَيْخُ أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُيَسِّرٍ أَبُو سَعْدٍ ، ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ كَثِيرُونَ ، وَقَالَ أَحْمَدُ : صَدُوقٌ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں : جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی موت کا وقت قریب آیا تو انہوں نے دریافت کیا : آج کون سا دن ہے لوگوں نے انہیں بتایا : آج پیر کا دن ہے ۔ انہوں نے فرمایا : اگر میرا آج رات میں انتقال ہو جائے تو تم کل کا انتظار نہ کرنا کیونکہ میرے نزدیک تمام دنوں اور راتوں میں ، سب سے زیادہ پسندیدہ وقت وہ ہے ، کہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زیادہ قریب کر دے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس میں امام أحمد کے استاد أحمد بن محمد بن محمد بن میسر ابوسعد ہیں جنہیں بہت سے افراد نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔ امام أحمد کہتے ہیں وہ صدوق ہیں ۔