مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا يُقَالُ فِي الْمَيِّتِ مِمَّا فِيهِ . باب: میت کے بارے میں کیا کہا جائے ؟ اس چیز میں سے جو اس میں پائی جاتی ہے
حدیث نمبر: 4033
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ نِسَاءَ بَنِي مَخْزُومٍ قَدْ أَقَمْنَ مَأْتَمَهُنَّ عَلَى الْوَلِيدِ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، فَأَذِنَ لَهَا ، فَقَالَتْ وَهِيَ تَبْكِيهِ : " ¤ أَبْكِي الْوَلِيدَ بْنَ [ الْوَلِيدِ بْنَ ] الْمُغِيرَةِ أَبْكِي الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ أَخَا الْعَشِيرَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ثَابِتٌ أَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيِّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! بنو مخزوم کی خواتین ولید بن ولید بن مغیرہ پر ماتم کرنے کے لئے تیار ہوئی ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی تو ایک خاتون نے روتے ہوئے یہ شعر کہا: ” میں ولید بن ولید بن مغیرہ پر رو رہی ہوں ، میں ولید بن ولید پر رو رہی ہوں ، جو خاندان کا بھائی ( یعنی ایک اہم فرد ) تھا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ثابت ابوحمزہ ثمالی ہے وہ ضعیف ہے ۔