حدیث نمبر: 403
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، وَأَبِي أُمَامَةَ ، وَوَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالُوا : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ نَتَمَارَى فِي شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الدِّينِ . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ : " إِنَّ الْإِسْلَامَ بَدَأَ غَرِيبًا ، وَسَيَعُودُ غَرِيبًا " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَنِ الْغُرَبَاءُ ؟ قَالَ : " الَّذِينَ يَصْلُحُونَ إِذَا فَسَدَ النَّاسُ ، وَلَمْ يُمَارُوا فِي دِينِ اللَّهِ ، وَلَا تُكَفِّرُوا أَحَدًا مِنْ أَهْلِ التَّوْحِيدِ بِذَنْبٍ " . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ . ¤ أَخْرَجَهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ مَرْوَانَ ، كَذَّبَهُ يَحْيَى وَالدَّارَقُطْنِيُّ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، ہم اُس وقت ایک دینی مسئلہ کے بارے میں بحث کر رہے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : ” اسلام کا آغاز غریب الوطنی میں ہوا تھا اور یہ عنقریب دوبارہ غریب الوطن ہو جائے گا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! غریب لوگ کون ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ لوگ جو اُس وقت ٹھیک رہیں ، جب دوسرے لوگ خرابی کا شکار ہو جائیں ، اور وہ لوگ ، اللہ کے دین کے بارے میں بحث نہیں کرتے ہیں ، تم لوگ کسی گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے ، اہل توحید میں سے کسی کو کافر قرار نہ دینا “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) : یہ مکمل روایت آگے چل کر آئے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن مروان ہے ، جسے یحیی اور امام دارقطنی رحمہ اللہ نے جھوٹا قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 403
درجۂ حدیث محدثین: موضوع