مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابُ لَا يُكَفَّرُ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ بِذَنْبٍ . باب: کسی گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے اہل قبلہ میں سے کسی کی تکفیر نہیں کی جائے گی
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، وَأَبِي أُمَامَةَ ، وَوَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالُوا : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ نَتَمَارَى فِي شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الدِّينِ . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ : " إِنَّ الْإِسْلَامَ بَدَأَ غَرِيبًا ، وَسَيَعُودُ غَرِيبًا " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَنِ الْغُرَبَاءُ ؟ قَالَ : " الَّذِينَ يَصْلُحُونَ إِذَا فَسَدَ النَّاسُ ، وَلَمْ يُمَارُوا فِي دِينِ اللَّهِ ، وَلَا تُكَفِّرُوا أَحَدًا مِنْ أَهْلِ التَّوْحِيدِ بِذَنْبٍ " . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ . ¤ أَخْرَجَهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ مَرْوَانَ ، كَذَّبَهُ يَحْيَى وَالدَّارَقُطْنِيُّ . ¤سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، ہم اُس وقت ایک دینی مسئلہ کے بارے میں بحث کر رہے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : ” اسلام کا آغاز غریب الوطنی میں ہوا تھا اور یہ عنقریب دوبارہ غریب الوطن ہو جائے گا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! غریب لوگ کون ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ لوگ جو اُس وقت ٹھیک رہیں ، جب دوسرے لوگ خرابی کا شکار ہو جائیں ، اور وہ لوگ ، اللہ کے دین کے بارے میں بحث نہیں کرتے ہیں ، تم لوگ کسی گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے ، اہل توحید میں سے کسی کو کافر قرار نہ دینا “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) : یہ مکمل روایت آگے چل کر آئے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن مروان ہے ، جسے یحیی اور امام دارقطنی رحمہ اللہ نے جھوٹا قرار دیا ہے ۔